رسائی کے لنکس

logo-print

سزا کا خوف نہیں اس لیے لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں'


پندرہ سال کے ریحان کو گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے بہادر آباد میں بعض افراد نے چوری کے شبہے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔ مقتول کے والد قتل کے ملزمان کی تصاویر دکھا رہے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مبینہ طور پر چوری کے شبے میں شہریوں کے ہاتھوں تشدد کے باعث ہلاک ہونے والے ریحان کے اہل خانہ انصاف کے متلاشی ہیں۔

پندرہ سالہ ریحان کو پندرہ اگست کو بہادر آباد کے علاقے میں چوری کے الزام میں اہل علاقہ نے مبینہ طور پر تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

واقعے کا احوال بتاتے ہوئے ریحان کی والدہ ریحانہ ظہیر کہتی ہیں کہ "ریحان نے اگر چوری کی تھی تو کیا چوری کی سزا موت ہے تو پھر یہ عدالتیں کیوں بنی ہیں۔ ہمارا بیٹا چلا گیا ہمیں دیکھیں ہم بھی تو عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔ لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں اپیلیں کر رہے ہیں۔"

پندرہ اگست کے دن کو یاد کرتے ہوئے ریحانہ نے بتایا کہ گھر سے نکلتے وقت ریحان کے الفاظ کچھ یوں تھے۔"امی میں نے عید پر جو گائے ذبح کی تھی اس کے پیسے لینے جارہا ہوں میں دادا کے گھر پر سو جاؤں گا اور پھر اگلے روز گھر آؤں گا۔"

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا "شام کو چھ بجے ہمارے پاس کال آئی کہ نیوز دیکھو اس میں ریحان سے متعلق کچھ آ رہا ہے۔ جب ہم نے خبروں کا چینل لگایا تو اس وقت جو خبر چل رہی تھی اس میں لڑکے کا نام نہیں تھا۔ لیکن جب میں نے اس لڑکے کی ٹی شرٹ دیکھی جس پر لکھا تھا اپنا ٹائم آئے گا تو میں پہچان گئی کہ یہ میرا بیٹا ہے۔"

ریحانہ ظہیر کے بقول ریحان یہ ٹی شرٹ بہت شوق سے خرید کر لایا تھا۔ جب اپنے بیٹے کو خبروں میں دیکھا تو فوراً جناح اسپتال گئے وہاں جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہمارا بیٹا ہمیں چھوڑ کر جا چکا ہے۔

ریحانہ کا کہنا ہے کہ ''ہم تو ان پڑھ لوگ ہیں ہمیں بھی پتہ ہے کہ کسی پر الزام ہو تو اسے ثابت کرنے کے لیے قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ میرے بیٹے کو عمر قید دے دیتے۔ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتے کم سے کم میں اسے دیکھ تو سکتی۔ اگر اس کی سزا موت تھی تو جنہوں نے اسے قتل کیا ان کی سزا کیا ہو گی۔"

پندرہ برس کے ریحان چھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ گھر میں انتہائی ہنس مکھ اور دوستانہ رویہ رکھنے والے ریحان کی اپنی بہنوں سے بہت اچھی دوستی تھی۔

ریحان کے اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے چھوٹے موٹے کام کرتا رہتا تھا۔ پندرہ اگست کو ایک بنگلے میں چوری کے شبے میں چند لڑکوں نے اسے پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او اورنگزیب خٹک نے واقعے کے روز میڈیا کو بتایا کہ پونے ایک بجے کے قریب ان لڑکوں نے رینجرز کو کال کی اور ریحان کو چور کہہ کر ان کے حوالے کردیا۔

اُس وقت تک ریحان کی حالت بہت تشویش ناک تھی لیکن اسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ جان کی بازی ہار گئے۔ رینجرز نے ریحان پر تشدد کرنے والے ملزمان کو حراست میں لیا جنہیں بعدازاں پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ریحان قتل کیس عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ پولیس اس واقعے کے دیگر ممکنہ محرکات کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔

ریحان پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس پر عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز واقعہ قرار دیا تھا۔

ریحان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ریحان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ریحان کے والد ظہیر پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں لیکن اس وقت ان کی ساری توجہ اپنے بیٹے کے لیے انصاف کے حصول پر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تو ہم صرف بھاگ رہے ہیں عدالت کے بھی چکر لگا رہے ہیں۔

اُن کے بقول "میرا بیٹا رو رو کر پوری دنیا کو دکھا کر گیا ہے اس کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے اسے انصاف دلوا کر رہوں گا۔"

عدالت کی دو پیشیوں پر ظہیر جا چکے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ ملزمان اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ پیسوں کے زور پر کیس کو الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تشدد کرنے والوں میں شامل ایک ملزم اپنی عمر کم ظاہر کر رہا ہے۔ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریحان کو مشتعل ہجوم نے مارا جب کہ ویڈیو میں ثابت ہو رہا ہے کہ مجمع نہیں تھا۔

ظہیر کہتے ہیں کہ مجھے اُمید ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ سب میرا ساتھ دیں تاکہ ان جیسے لوگوں کو ایسا سبق ملے کہ مستقبل میں کبھی کسی غریب کے بچے کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔

ریحان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آخر ایسے حالات کیوں پیدا ہو رہے ہیں کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس حوالے سے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رضا کار ایڈووکیٹ رانا آصف نے وائس آف امریکہ کے سوالات کا کچھ یوں جواب دیا۔

ریحان کا کیس کس معاشرتی رویے کو ظاہر کرتا ہے؟

ریحان کا کیس پاکستان کے اس معاشرے کی عکاسی کرتا ہے کہ جس میں بچے کم عمری میں ہی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے آجاتے ہیں۔ اور پھر وہ یا تو کام کرتے ہیں یا چھوٹے موٹے جرائم کرتے ہیں۔

رانا آصف کے بقول کراچی جیسے بڑے شہر جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے وہاں بچوں کی تربیت کے حوالے سے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ریحان بھی اسی نظام کا شکار ہوا جس میں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بجائے اس کے کہ ریحان کو قانون کے حوالے کیا جاتا لوگوں نے خود قانون ہاتھ میں لیا۔

ریحان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟

ایڈوکیٹ رانا آصف کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں یہ وہ عوامل ہیں جن سے معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے۔

اُن کے بقول اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں میں بچوں کے تحفظ کے ادارے موجود ہیں۔ لیکن یہ ادارے غیر فعال دکھائی دیتے ہیں۔ لہذٰا غربت، ریاست کی ناکامی اور وہ لوگ جنہوں نے قانون ہاتھ میں لیا یہ سب ریحان کی موت کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کے بعد لواحقین دیت لے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کے بعد لواحقین دیت لے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

خود سے سزا مقرر کرنے کا رویہ آخر ہے کیا؟

رانا آصف ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ بدقسمی سے شہریوں کو عدالتی نظام پر یقین نہیں ہے۔ لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ مقدمات سالہا سال چلتے ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خود قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں جو کہ ایک غلط رویہ ہے۔

ایسے مقدمات کا انجام کیا ہوتا ہے؟

رانا آصف کے بقول ایسے مقدمات میں آخر کار دیت کے ذریعے معاملے کو نمٹا دیا جاتا ہے۔ جس خاندان کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہے اسے پیسے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس صورت میں ریاست بھی اکثر خاموش رہتی ہے۔ شاہ رُخ جتوئی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے رانا آصف نے کہا کہ اس واقعے میں ریاست نے اپنا کردار ادا کیا اور یہ کیس اب بھی چل رہا ہے۔

کراچی میں کریمنل جسٹس سسٹم کیسے کام کر رہا ہے؟

کراچی کے کریمنل جسٹس سسٹم پر سوال اٹھاتے ہوئے رانا آصف کہتے ہیں کہ جس شہر میں 111 تھانے ہوں اور تشدد کے واقعات معمول ہوں وہاں 71 میڈیکو لیگل آفیسر کا ہونا ایک مذاق ہے۔

اُن کے بقول اتنے بڑے شہر میں نہ تو ڈی این اے لیب سمیت دیگر جدید تفتیشی ذرائع موجود ہی نہیں تو ایسے میں ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ لوگوں کو انصاف ملے گا۔

رانا آصف کہتے ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں تو دفعہ 302 کے تحت اِن واقعات میں ملوث ملزمان کو سزائے موت یا کم سے کم عمر قید ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG