رسائی کے لنکس

logo-print

بائیڈن انتظامیہ کی پاکستان اور بھارت سے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟


فائل فوٹو

جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے دوران بھارت اور پاکستان کے لئے امریکہ کی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے، کیونکہ امریکہ اور بھارت کے اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جب کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ فعال تعلقات چاہتا ہے۔

تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کچھ بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

طلعت مسعود کا کہنا ہے جو بائیڈن خود اور ان کی ٹیم اس خطے کو بہتر طور پر سمجھتی ہے اور خارجہ امور سے عہدہ برا ہونے کا تجربہ رکھتی۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان کی توقعات ہو سکتی ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران اقتدار پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئی لیکن ان کے بقول اس بات کا امکان کم ہے کہ پاک امریکہ باہمی تعلقات میں کوئی نمایاں بہتری آئے، تاہم ان کے بقول کچھ مثبت پیش رفت ہو گی۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان سے متعلق امریکہ کی روائتی پالیسی کو ہی برقرار رکھے گی۔

شمشاد خان کے بقول پاک امریکہ تعلقات میں پاکستان کا جوہری پروگرام امریکہ کے لیے ایک اہم معاملہ رہا ہے۔ دہشت گردی اور اقتصادی معاملات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر جو بائیڈن کی توجہ رہے گی، لیکن ان کے بقول امریکہ میں صدارتی تبدیلی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

دوسری جانب نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر سوران سنگھ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے چار سالہ دور میں واشنگٹن اور دہلی کے تعلقات نہایت ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوئے ہیں اور ان کے بقول جو بائیڈن اپنے شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی وضح کریں گے۔

سوران سنگھ بقول اگر جو بائیڈن چین کے ساتھ بات چیت کا عمل بڑھائیں گے تو شاید اس صورت میں امریکہ اور بھارت کی شراکت داری مزید تیزی کے ساتھ آگے نہ بڑھے۔

سواران سنگھ کا کہنا ہے کہ امریکہ بھارت تعلقات میں امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت شامل رہی ہے۔ ان کے بقول اب یہ تعلقات ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ٹو پلس ٹو پلس ڈائیلاگ ہر سال منعقد ہوتا ہے۔

لیکن ان کے مطابق آئند چار سالوں کے دوران باہمی تعلقات کا رجحان اقتصادی امور پر مرکوز رہے گا۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت بھارت امریکہ تعلقات سے مختلف ہے۔

ان کے بقول بھارت کے بارے میں امریکہ کا یہ تاثر ہے کہ ایک بڑا ملک ہونے کی وجہ سے ایک بڑی مارکیٹ ہے، اور وہ چین کے خلاف محاذ کے لیے بھارت کا تعاون حاصل کر رہا ہے۔ جب کہ واشنگٹن پاکستان اور چین کے گہرے تعلقات کی وجہ سے اسلام آباد سے ایسی کوئی توقع نہیں کر سکتا۔ اس لیے امریکہ کی آئندہ انتظامیہ میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں گرم جوشی کی توقع مناسب نہیں ہو گی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سرحدی کشیدگی پر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ نومبر 2020
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سرحدی کشیدگی پر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ نومبر 2020

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ میں چین امریکہ تعلقات میں کی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے اور ان کے بقول اس کے مثبت اثرات باقی دنیا اور پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔

جو بائیڈن انتظامیہ اور پاکستان بھارت تعلقات

طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ امریکہ کی آئندہ انتظامیہ اس بات کا خواہاں ہو گی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی حد تک فعال تعلقات ہوں۔ لائن آف کنڑول پر کشیدگی کم ہو۔ تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے بھارت موثر کردار ادا کر سکے۔

دوسری طرف سوران سنگھ کا کہنا ہے کہ شاید کھلے عام جو بائیدن انتظامیہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کوئی پالیسی بیان جاری نہ کرے لیکن ان کے بقول پس پردہ رابطوں میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات اور ان کے باہمی اختلافات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع حل طلب ہے، اور پاکستان کی یہ توقع ہو گی کہ امریکہ اس کے حل میں مثبت کردار ادا کرے۔

بائیڈن انتظامیہ کے نامزد وزیر دفاع سابق جنرل لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں امن عمل کا "اہم شراکت دار" ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی فوج کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان اہم امور پر تعاون کی راہیں کھلیں گی۔

امریکی سینٹرل کمان کے سابق سربراہ جنرل فلائیڈ آسٹن، جنہیں جو بائیدن نے وزیر دفاع نامزد کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمان کے سابق سربراہ جنرل فلائیڈ آسٹن، جنہیں جو بائیدن نے وزیر دفاع نامزد کیا ہے۔

جنرل آسٹن نے یہ بیان امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے وزیر دفاع کے عہدے کے لئے اپنی توثیق کی سماعت کے دوران دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل آسٹن نے کہا کہ وہ افغان امن عمل میں ایک ایسے علاقائی طرز عمل کی حوصلہ افزائی کریں گے جسے پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کی حمایت حاصل ہو۔

جنرل آسٹن نے کہا کہ بطور وزیر دفاع پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بہتری کے لیے ان کے توجہ مشترکہ مفادات پر مرکوز رہے گی جس میں پاکستان کے فوجی افسروں کی امریکہ کے فوجی تربیتی اداروں میں تربیت و تعلیم کے پروگرام کے لیے مختص فنڈ کا استعمال بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروپوں کو شکست دینے لیے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہو گی۔

طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی افواج کے درمیان تعلقات کی بحالی کئی پہلوں سے اہم ہو گی۔ کیونکہ سیکورٹی معاملات، خارجہ پالیسی اور خطے کی صورت حال میں پاکستانی فوج کا اہم کردار ہے۔

طلعت مسعود کہتے ہیں کہ امریکی فوجی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان عسکری تعلقات برقرار رہنے چاہیئیں۔ اور ان کے بقول امریکی حکام مستقبل میں ماضی جیسے بہتر تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ سال پاکستان کی فوج کے افسران کے لیے امریکہ کے فوجی تربیتی اداروں میں تربیت پروگرام کو بحال کرنے کے اقدام کی توثیق کی تھی جسے 2018 میں معطل کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG