رسائی کے لنکس

بازیابی کے بعد کیٹلن اور اُن کا خاندان پاکستان سے روانہ


امریکی خاتون کیٹلن کولمین، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اُن کے شوہر جوشوا بوئیل کو 2012ء میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔ اُن کے تینوں بچوں کی پیدائش طالبان کی قید کے دوران ہی ہوئی۔

پانچ سال تک طالبان کے قبضے میں رہنے کے بعد جمعرات کو پاکستان کے قبائلی علاقے سے بازیاب کرائی گئی امریکی خاتون، اُن کے کینیڈین شوہر اور تین بچے پاکستان سے روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکی خاتون کیٹلن کولمین، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اُن کے شوہر جوشوا بوئیل کو 2012ء میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔ اُن کے تینوں بچوں کی پیدائش طالبان کی قید کے دوران ہی ہوئی۔

پاکستانی فوج کے مطابق امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک کارروائی کر کے اُس وقت امریکی خاتون، اُن کے شوہر اور تین بچوں کو بازیاب کرایا گیا جب اُنھیں افغانستان سے کرم ایجنسی کے راستے پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

اس خاندان کی بازیابی پر امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کا ایک مثبت لمحہ ہے۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کا تعاون اس بات کا مظہر ہے کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے امریکی خواہشات کا احترام کر رہی ہے۔

امریکی صدر کے بقول، ’’مستقبل میں بھی ہم دہشت گردی کے خلاف اور باقی ماندہ مغویوں کی رہائی کے سلسلے میں اسی طرح کی مشترکہ کارروائیاں جاری رہنے کی امید کرتے ہیں۔‘‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعے کو نیوز کانفرنس میں اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان افراد کی بازیابی امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ قابل عمل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان کہتا رہا ہے کہ اگر امریکہ کی طرف سے انٹیلی جنس معلومات فراہم کی جائیں تو کارروائی کی جائے گی۔

پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکی خاتون اور اُن کے خاندان کی بازیابی کے بعد صدر ٹرمپ کا پاکستان سے متعلق بیان خوش آئند ہے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ دیر آئے درست آئے، کم از کم صدر ٹرمپ کو اب قدر آئی کہ پاکستان مسئلہ کا حل ہے نہ کہ مسئلے ایک حصہ۔ اتنے سالوں سے یہ مسئلہ تھا، مشکلات تھیں، مصیبت تھی۔۔۔ پاکستان کی فوج اور سکیورٹی فورسز نے مکمل تعاون کیا اور وہ کامیاب بھی ہوئے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مثبت بات ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے اور اس سے کم از کم جو ایک تلخی تھی پاکستان امریکہ تعلقات میں اس میں کمی بھی آئی ہے اور امریکہ کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان کا کیا کلیدی کردار ہے۔‘‘

اس سوال پر کہ کیا افغان طالبان میں شامل حقانی نیٹ ورک اب بھی پاکستان میں فعال ہے اور اس خاندان کو پاکستان کیوں منتقل کیا جا رہا تھا، اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لگ بھگ 40 فی صد حصے طالبان کے کنٹرول میں ہے اور حقانی نیٹ ورک طالبان کا حصہ ہے۔

’’۔۔۔ ان (حقانی نیٹ ورک) کو پاکستان میں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات سے بات ختم نہیں ہو گی۔‘‘

دوسری جانب تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دے۔

’’دیکھیے یہ تو سب کو پتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں بھی ہیں اور پاکستان کی بھی سرزمین کو کبھی کبھی استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور سے ان کی لیڈرشِپ۔ لیکن پاکستان اب بہت اس بات پر حساس ہو گیا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کے امریکہ سے تعلقات میں بڑی تلخی آ جاتی ہے۔ تو اس کی کوشش ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی سرزمین استعمال نہ کرنے دیا جائے۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ امریکی خاتون اور اُن کے خاندان کی باحفاظت بازیابی کو جس طرح امریکی قیادت نے سراہا ہے اس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ میں نہ صرف کمی آئے گی بلکہ ایک دوسرے پر اعتماد بھی بڑھے گا۔

پاکستانی عہدیداروں کی طرف سے حال ہی میں ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے بھی اگر امریکہ قابل عمل انٹیلی جنس معلومات فراہم کرے تو اُس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG