رسائی کے لنکس

logo-print

زیادہ مذہبی گھرانوں کے بچوں میں انسان دوستی کا امکان: رپورٹ


لیکن ترقیاتی نفسیات سے وابستہ ماہرین کی ٹیم نے اندازا لگایا ہے کہ زیادہ مذہبی گھرانوں کے بچے اتنے انسان دوست نہیں تھے جتنا کہ ان کے والدین انھیں سمجھتے تھے۔

ایک نئے مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ زیادہ مذہبی گھرانوں کے بچوں میں دوسروں کے ساتھ اشتراک کرنے کا رجحان کم پایا جاتا ہے۔

شکاگو یونیورسٹی سے منسلک ماہرین نفسیات کی ٹیم نے کہا کہ والدین میں یہ نظریہ عام طور پر پایا جاتا ہے کہ بچپن میں بچوں کی اخلاقی ترقی کے لیے مذہب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

لیکن ترقیاتی نفسیات سے وابستہ ماہرین کی ٹیم نے اندازا لگایا ہے کہ زیادہ مذہبی گھرانوں کے بچے اتنے انسان دوست نہیں تھے جتنا کہ ان کے والدین انھیں سمجھتے تھے۔

علم نفسیات کے ماہرین کی ٹیم کی قیادت پروفیسر جین ڈیسیٹا نے کی جنھوں نے بین الاقوامی مطالعے کے لیے چھ ممالک میں مذہب اور انسان دوستی کے بارے میں پائے جانے والے تصورات اور بچوں کے رویوں کا جائزہ لیا ہے۔

علم حیاتیات کے شمارے 'کرنٹ بیالوجی 'میں شائع ہونے والے مطالعے کے لیے ماہرین ان ملکوں کے بچوں میں دوسروں کے ساتھ اشتراک کرنے کے رویے، انسان دوستی کے اقدام اور برے رویے کے لیے دوسروں کا تعین کرنے اور سزا کے حوالے سے ان کے رجحان کا جائزہ لیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ مذہبی خاندانوں کے بچوں میں غیر مذہبی گھرانوں کے بچوں کے مقابلے میں دوسروں کے ساتھ اشتراک کرنے کے لیے کم امکان تھا۔

اس کے علاوہ سخت مذہبی پرورش میں پلنے والے بچوں میں سماج مخالف رویہ کے جواب میں زیادہ تادیبی رجحانات پائے گئے۔

پروفیسر جین ڈیسیٹا نے کہا کہ ہمارے نتائج نے مذہبی گھرانوں کے بچوں کے حوالے سے پائے جانے والے مقبول تصورات کی تردید کی ہے کہ ایسے بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہمدرد اور انسان دوست ہوتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے مطالعے میں ملحد اور غیر مذہبی گھرانوں کے بچے بھی شامل تھے جو زیادہ روادار تھے۔

شکاگو یونیورسٹی میں چائلڈ نیورو سویٹ کے شعبے سے وابستہ ماہرین نفسیات نے بتایا کہ ہمارا مطالعہ 5 سے 12 برس کے 1170 بچوں پر مشتمل تھا جن کا تعلق کینیڈا، چین، اردن، جنوبی افریقہ، ترکی اور امریکہ سے تھا۔

ایک مشاہدے کے دوران بچوں میں انسان دوستی کے ایک ٹاسک کے لیے انھیں 10 اسٹیکرز دیے گئے تاکہ وہ اجنبی بچوں کے ساتھ ان کا اشتراک کریں اس تجربے میں انسان دوستی کی سطح کو اشتراک کیے جانے والے اوسط تعداد کے ساتھ ناپا گیا۔

اسی طرح اخلاقی سطح کے لیے ایک دوسرے ٹاسک میں بچوں کو ایک مختصر فلم دیکھائی گئی جس میں کردار ایک دوسرے کو جان بوجھ کر یا انجانے میں دھکا دیا تھا۔ فلم کے اختتام پر بچوں سے صورتحال کے حوالے سے پوچھا گیا کہ ان کا رویہ کتنا غلط تھا اور انھیں کتنی سزا کا مستحق ہونا چاہیئے تھا۔

علاوہ ازیں ایک دوسرے مشاہدے میں ان گھرانوں میں مذہبی رجحان اور بچوں میں ہمدردی اور انصاف کےحوالے سے والدین کی رائے جاننے کے لیے ایک سوالنامہ بھروایا گیا اس مشاہدے کے دوران والدین کے تین بڑے گروپ میں تقسیم کیا گیا جن کا تعلق عیسائیت، اسلام اور غیر مذہب گھرانوں سے تھا۔

ماہرین نے کہا عام طور خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں میں بڑے ہونے کے بعد دوسروں کے ساتھ اشتراک کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن نتائج سے پتا چلا کہ عیسائی اور مسلم گھرانوں کے سخت مذہبی ماحول میں پلنے والے بچوں نے بہت کم اسٹیکرز کا اشتراک کیا تھا۔

اور زیادہ مذہبی گھرانوں کے بچوں میں کم انسان دوستی کا رویہ عمر کے ساتھ مزید مضبوط ہوا تھا۔

اسی طرح برے رویے کے لیے زیادہ سختی سے نمٹنے اور تادیبی سزائیں دینے کا رجحان بھی غیر مذہبی گھرانوں کے بچوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تھا۔

XS
SM
MD
LG