رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی آئین میں مذہی آزادیوں پر مبنی دستاویز



امریکی معاشرہ مذہبی لحاظ سے دنیا کا سب سے متنوع معاشرہ ہے۔ جہاں دنیا کے ہر مذہب کے نمائندہ افراد موجود ہیں ۔ گزشتہ کچھ برسوں سے بعض سیاسی اور غیر سیاسی عوامل کے باعث امریکی معاشرے میں مذہبی آزادی بھی بحث کا حصہ رہی ہے۔ واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک نے اس صورتحال کے پیش نظر ، اس حوالے سے آئین میں موجود قوانین کو ایک دستاویز کی شکل میں اکھٹا کیا ہے تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق سے آگاہ رکھا جائے۔

امریکی معاشرے میں مذہبی آزادی ہمیشہ سے سیاسی اور غیر سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں دنیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں ، امریکی آئین ہر مذہب کو برابری کے حقوق دیتا ہے۔واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک ، بروکنگز انسٹی ٹیوٹ نے چند مذ ہبی اور غیر مذہبی سکالرز کے تعاون سے Religious Expressions in American Public Lifeکے نام سے ایک دستاویز مرتب کی جس کا مقصد امریکی عوام کو امریکہ میں اپنے مذہب کے حوالے سے ان کے حقوق سے آگاہ کرنا تھا۔

ملیسا راجرز ویک فارسٹ یونیورسٹی کے سکول آف ریلیجن اینڈ پبلک افیئرز کی ڈاریکٹر ہیں اور اس دستاویز کی روح رواں ۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکہ میں موجود تمام بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اکٹھا کیا اور ایک مشترکہ اور جامع مسودہ تیار کیا جس میں مذہبی آزادی کے حوالے سے تمام قوانین کی معلومات موجود ہیں ۔جس کا ایک مقصد مختلف مذاہب کے لوگوں کو قریب لانا بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ امریکی عوام ان قوانین کو سمجھیں جو مذہبی حوالے سے موجود ہیں ۔ ہم ایک ایسی سوسائٹی چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کو سمجھیں اور محض غلط فہمیوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے خائف نہ ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسودے کی تیاری میں مدد کرنے والے مختلف مذاہب کے سکالرز کا کہنا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر تعصب کے روکنے کے لیے عوام کو ان قوانین سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ اس متنوع معاشرے میں تمام مذاہب پھل پھول سکیں۔

سکھ کونسل آن ریلیجن اینڈ ایجوکیشن کے چیئر مین ڈاکٹر راج ونت سنگھ کہتے ہیں کہ امریکہ میں صرف عیسایت یا یہودیت سے تعلق رکھنے والے ہی نہیں بلکہ یہاں ہر مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں فاصلے دیکھے گئے ہیں۔ چاہے وہ سیاسی یا غیر سیاسی عوامل کی بنا پر ہوئے ہوں ۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف حکومتی اور سیاسی بلکہ عوامی اور میڈیا کی سطح پر بھی ان مسائل پر بات کی جائے اور عوام کو آگاہ کیا جائے۔

انسٹی ٹیوٹ آن ریلیجن اینڈ سوک ویلیوز کے ڈائریکٹر شبیر منصوری کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آئین ایک اہم دستاویز ہے لیکن آئین کا استعمال اور اسے اپنے استعمال میں لانا ایک جاری عمل ہے۔ امریکی آئین تمام مذاہب کو برابری دیتا ہے اور ہمارے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔

امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے مطابق، امریکی کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جس میں کسی بھی مذہب کی آزادی کو نقصان پہنچے، آزادی حق رائے سلب ہو یا اس میں رکاوٹ آئے۔۔

یہ ترمیم جو 15 دسمبر 1791 ءمیں منظور کی گئی، آ ج بھی امریکی آئین کا ایک اہم حصہ ہے اور شخصی آزادی کے حوالے سے دنیا بھر میں امریکہ کی پہچان بھی ہے۔

XS
SM
MD
LG