رسائی کے لنکس

کیا متحدہ مجلس عمل بحال ہوجائے گی؟

  • شمیم شاہد

متحدہ مجلسِ عمل کے جولائی 2005ء میں ہونے والے ایک سربراہی اجلاس کی فائل فوٹو

اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا اسی قسم کے کسی دوسرے اتحاد کی تشکیل کے امکانات پر بظاہر خوش ہیں۔

پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں نے اپنے اتحاد 'متحدہ مجلسِ عمل' (ایم ایم اے) کی بحالی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا یہ اتحاد ماضی کی طرح انتخابی کامیابی حاصل کرسکے گا یا نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا انس نورانی، جمعیتِ اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر اور دیگر مذہبی سیاسی رہنمائوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں دینی جماعتوں کے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

ان جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق آئندہ چند روز میں لاہور میں ایک اجلاس ہوگا جس میں ایم ایم اے کی باقاعدہ طور پر بحالی یا تمام مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک وسیع تر اتحاد کے قیام کا اعلان کیاجائے گا۔

اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا اسی قسم کے کسی دوسرے اتحاد کی تشکیل کے امکانات پر بظاہر خوش ہیں۔

لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اس اتحاد کی ماضی کی کارکردگی اور ملک کے بدلتی ہوئی صورتِ حال میں مذہبی جماعتوں کے کسی اتحاد کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکتی جو عوام نے 2002ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کو بخشی تھی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے مذہبی جماعتوں کے قائدین کے مابین جمعرات کو ہونے والی ملاقات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2002ء کی نسبت موجودہ حالات نہایت گھمبیر ہیں کیونکہ اس وقت تو امریکہ اور اس کی اتحادی افواج صرف افغانستان میں داخل ہوئی تھیں مگر اب تو پاکستان کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2002ء کی طرح 2018ء کے انتخابات میں بھی اس نئے اتحاد کو پذیرائی حاصل ہوگی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اتحاد کے باقاعدہ اعلان کے بعد کسی بھی رکن جماعت کو انفرادی طور پر سیاسی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایم ایم اے نے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی جب کہ یہ اتحاد قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرا تھا جس کے باعث اس کے پاس قائدِ حزبِ اختلاف کا اہم عہدہ رہا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسینکا کہنا ہے کہ 2002ء میں بھی مذہبی جماعتیں ایک غیر ملکی ایجنڈے کے تحت متحد ہوئی تھیں اور اب بھی غیر ملکی قوتوں نے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آئندہ عام انتخابات میں انہیں مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو متحدہ مجلسِ عمل کے غیر فعال ہونے کے بعد زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ملا ہے۔

ان کے بقول جماعت اسلامی پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کی دشمنی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ واضح ہے۔ لہذا ان حالات میں ان دونوں جماعتوں کا ایک ہی فورم پر متحد ہونا بہت مشکل ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جس کے رہنما اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات شاہ فرمان کہتے ہیں کہ قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنانا ان کاحق ہے۔

تاہم 2002ء سے2007ء تک متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ عوام اس بارے میں بہتر فیصلہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے بارے میں عوامی رائے زیادہ تسلی بخش نہیں تھی۔

تجزیہ کار بریگیڈیر (ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو یا مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی نیا اتحاد بنے، اسے 2002ء کے عام انتخابات کی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جارہے ہیں اور مذہبی جماعتوں کی سیاست سے عوام متنفر نظر آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG