رسائی کے لنکس

logo-print

پی ایس ایل 6: کس ٹیم کا پلڑا بھاری، کون سا کھلاڑی ترپ کا پتہ؟


فائل فوٹو

انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں، پاکستان سپر لیگ کے چھٹے سیزن کے باقی میچز کا آغاز ابوظہبی میں نو جون سے ہونے جا رہا ہے۔ مارچ میں سلسلہ جہاں رکا تھا وہیں سے جڑے گا۔ لیکن کیا ٹیموں کی کارکردگی بہتر ہو گی یا بدتر اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔

لیکن 14 میچز میں جو ایکشن دیکھنے کو ملا اس نے پی ایس ایل کے رواں سیزن میں ویسے ہی جان ڈال دی تھی۔ ٹیموں کی کارکردگی، کھلاڑیوں کی انفرادی پرفارمنس اور دونوں وقفوں کے درمیان ہونے والے میچز کو دیکھ کر یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی میچز بھی ایکشن سے بھرپور ہوں گے۔

کیا اب بھی بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم فتح یاب ہوگی؟

پی ایس ایل کے سیزن 6 کے بارے میں شائقین کو کچھ یاد ہو کہ نہ یاد ہو اتنا ضرور یاد ہے کہ اب تک کھیلے گئے 14 میچز میں سے 13 مرتبہ دوسری بار بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے کامیابی سمیٹی۔

صرف ایک میچ میں جو ایونٹ ملتوی ہونے سے پہلے کھیلا گیا آخری میچ تھا، پہلے بیٹنگ کرنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹر کو کامیابی ہوئی۔ لیکن اب جگہ بدل گئی ہے، موسم مزید گرم ہو گیا ہے اور ٹیموں کو تیاری کا زیادہ موقع بھی مل گیا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ٹیم کسی بھی وقت اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں پوائنٹس ٹیبل کی جس میں دفاعی چیمپئن کراچی کنگز تین میچز جیت کر سرِفہرست ہے۔ تین میچز میں کامیابی تو پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز نے بھی حاصل کی ہے اور ان تینوں کے بھی چھ، چھ پوائنٹس ہیں۔ لیکن نیٹ رن ریٹ کے حساب سے کراچی کا پہلا، پشاور کا دوسرا، اسلام آباد کا تیسرا اور لاہور کا چوتھا نمبر ہے۔

لاہور قلندرز کے جارح مزاج بلے باز بین ڈنک
لاہور قلندرز کے جارح مزاج بلے باز بین ڈنک

ایونٹ کا دوبارہ آغاز اسلام آباد اور لاہور کے میچ سے ہو گا۔ دونوں ٹیموں نے ابھی تک چار چار میچز کھیلے ہیں اور ان کے پاس اپنی پوزیشن بہتر کرنے کا سنہری موقع بھی ہے، کیوں کہ ٹیبل پر ان سے اوپر موجود دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر پانچ پانچ میچز کھیلے ہوئے ہیں۔

اور کچھ بات محمد رضوان کی قیادت میں ملتان سلطانز اور سابق پاکستانی کپتان سرفراز احمد کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جنہیں ایونٹ میں دوسری کامیابی کی تلاش ہے۔ فی الحال پانچ پانچ میچز کے بعد دونوں ٹیموں کے صرف دو پوائنٹس ہیں، لیکن بہتری کی گنجائش اور نئے کھلاڑیوں کی آمد سے انہیں فائدہ ہو سکتا ہے۔

پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن اب تک بیٹسمینوں کے نام

پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں اب تک صرف ایک ٹیم نے ایک اننگز میں 200 رنز کا سنگِ میل عبور کیا۔ لیکن آٹھ مرتبہ ٹیموں نے 190 یا اس سے زائد رنز بنا کر شائقین کو باؤنڈری لائن کی طرف مصروف رکھا۔ بالرز کی کارکردگی بہتر تو رہی ہے، لیکن ہدف کا دفاع نہ کرنا ہی ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پی ایس ایل سکس کی واحد سینچری کراچی کنگز کے شرجیل خان نے اسکور کی جس کے بعد نہ صرف وہ فارم میں واپس آ گئے بلکہ پاکستان ٹیم میں ان کی واپسی بھی ہوئی۔ لیکن، ٹاپ بلے بازوں میں ان کا تیسرا نمبر ہے، سب سے زیادہ کامیاب بیٹسمین ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان رہے جنہوں نے پانچ میچوں میں تین نصف سینچریوں کی مدد سے 297 رنز اسکور کیے ہیں۔

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کراچی کنگز کی جانب سے تین ہی نصف سینچریوں کی مدد سے 258 جب کہ شرجیل خان ایک سینچری اور ایک نصف سینچری کی مدد سے 200 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔

حال ہی میں جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں شان دار کارکردگی دکھانے والے فخر زمان 189 رنز کے ساتھ لاہور قلندرز کے سب سے کامیاب بلے باز ہیں جب کہ 185 رنز بنا کر سرفراز احمد نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا نام روشن کیا ہوا ہے۔

لاہور قلندرز کے ہی محمد حفیظ 181 رنز کے ساتھ ٹاپ چھ بیٹسمینوں میں شامل ہیں اور انہی بلے بازوں کی کارکردگی ان کی ٹیموں کو آگے لے جانے میں مدد کرے گی۔

ایک نظر پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کے نمایاں بالرز پر

بالرز کی کارکردگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو ابھی تک صرف ایک بالر پشاور زلمی کے وہاب ریاض نے اننگز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی دو مرتبہ تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے واحد بالر ہیں۔

نوجوان بالرز کراچی کنگز کے ارشد اقبال، اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد وسیم اور ملتان سلطانز کے شاہنواز دھانی نے بھی ایک اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا اور امکان ہے کہ ایونٹ کے باقی میچز میں بھی وہ اپنی کارکردگی سے مداحوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

فی الحال وہ پی ایس ایل سکس کے سب سے کامیاب بالر ہیں انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ثاقب محمود جنہوں نے پشاور زلمی کی جانب سے پانچ میچز میں اب تک 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی اور ملتان سلطانز کے شاہنواز دھانی نو، نو وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض آٹھ وکٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں جب کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے حسن علی، کراچی کنگز کے ارشد اقبال اور کوئٹہ گلیڈٰی ایٹرز کے زاہد محمود اور محمد حسنین چھ، چھ وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔

سرفراز احمد
سرفراز احمد

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کا پہلا حصہ فروری مارچ میں کراچی میں کھیلا گیا جب کہ ابو ظہبی جون میں ایونٹ کے باقی میچز کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور کھلاڑیوں نے بھی اپنی انفرادی کارکردگی بہتر بنائی۔

اگر بات ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز کی کی جائے تو فخر زمان کا نام سب سے اوپر آتا ہے۔ انہوں نے پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں اچھی کارکردگی دکھا کر قومی ٹیم میں جگہ بنائی اور اس دوران شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنلز میں اس برس 100 کی اوسط سے 302 رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز ہیں۔

کپتان بابر اعظم بھی ان سے پیچھے نہیں، انہوں نے بھی ون ڈے انٹرنیشنل میں 76 کی اوسط سے 228 رنز بنائے اور اپنی شان دار کارکردگی کی وجہ سے بھارت کے وراٹ کوہلی کو آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن سے بھی محروم کر دیا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی ان کی کارکردگی کم نہیں، پی ایس ایل سے وقفے کے دوران وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پہلی سینچری اسکور کر کے ان چند بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہو گئے جو یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کے اوپننگ پارٹنر محمد رضوان بھی بھرپور فارم میں ہیں۔ دونوں کھلاڑی پی ایس ایل کی فارم کو ٹی ٹوئنٹی میں بھی لے گئے اور دو مختلف ٹیموں کے خلاف سینچری پارٹنر شپ بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔

پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پہلی وکٹ کی شراکت میں محمد رضوان اور بابر اعظم نے 197 رنز کا ریکارڈ آغاز فراہم کیا جب کہ 11 دن بعد زمبابوے کے خلاف ہرارے کے مقام پر دوسری وکٹ کی شراکت میں انہوں نے 126 رنز جوڑے۔

اسی دوران محمد رضوان کو 'کرکٹ کی بائبل' مانے جانے والے 'وزڈن' نے اپنے پانچ بہترین کرکٹرز آف دی ایئر' کی فہرست میں بھی شامل کر لیا، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے 18 ویں پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔

ایک اور کھلاڑی جس نے پاکستان سپر لیگ سے بریک پر رہ کر بریک نہیں لیا وہ ہیں فاسٹ بالر حسن علی، انہوں نے ایونٹ سے قبل قومی ٹیم میں کم بیک کیا۔ لیکن اس کے بعد ان کی کامیابیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

انہوں نے پی ایس ایل کے وقفے کے دوران پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز میں 11 وکٹیں حاصل کر کے مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس میں زمبابوے کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں چار وکٹوں کا کارنامہ بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG