رسائی کے لنکس

logo-print

بیرون ملک کام کرنے والے شمالی کوریائی باشندوں کو استحصال کا سامنا: رپورٹ


جن منحرفین کے انٹرویوز کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی اجرت براہ راست شمالی کوریا کی حکومت کو ادا کی جاتی ہے جس کے بعد کارکنوں کو ان کی اپنی کمائی کا 10 فیصد ادا کیا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی طرف سے جاری رپورٹ میں شمالی کوریا کے ان کارکنوں کو درپیش برے سلوک کی تفصیل بیان کی ہے جنہیں دوسرے ممالک میں کام کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے تاہم انہیں اکثر سخت اور قید جیسے حالات میں رہنا پرٹا ہے۔

تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ کم جونگ ان کی حکومت ان کی اجرتوں کا 90 فیصد ضبط کر لیتی ہے جس سے اس حکومت کو اربوں ڈالر حاصل ہوتے ہیں جس پر سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

سئیول میں قائم شمالی کوریا کے انسانی حقوق سے متعلق اعداد و شمار کے ایک مرکز کی یہ رپورٹ شمالی کوریا کے 20 منحرفین کے انٹرویو پر مبنی ہے جن میں کئی ایک کو چین، روس اور کویت سمیت نو ملکوں میں کام کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

شمالی کوریا کے ایک منحرف شخص نے بیرون ملک کام کرنے کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے اسے "شمالی کوریا میں جیل کیمپوں میں زندگی گزارنے سے بھی سخت " قرار دیا۔

اس تنظیم کی ساتھ کام کرنے والی ایک تحقیق کار لی سنگ جو کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکن عارضی پناگاہوں اور کنٹینرز میں رہتے ہیں جہاں ماحول کو گرم اور ٹھنڈا رکھنے والا کوئی نظام نہیں ہے اور نہ ہی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزارت خارجہ کے مطابق شمالی کوریا نے اندازاً 50,000کارکنوں کو 40 ملکوں میں بھیجا۔ ان کو اکثر ہاتھ سے زیادہ مشقت کا کام کرنے پر ملازم رکھا جاتا ہے اور اس دوران وہ فیکٹریوں، کھیتوں اور تعمیری جگہوں پر روزانہ پندرہ گھنٹوں کے لیے کام کرتے ہیں۔

تنظیم نے جن منحرفین کے انٹرویوز کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی اجرت براہ راست شمالی کوریا کی حکومت کو ادا کی جاتی ہے جس کے بعد کارکنوں کو ان کی اپنی کمائی کا 10 فیصد ادا کیا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کی انسانی حقوق کی تنظیم کے تحزیہ کاروں کے مطابق اس طریقے سے سالانہ اندازاً دو ارب ڈالر سے زائد شمالی کوریا کو حاصل ہوتے ہیں۔

شمالی کوریا نے ماضی میں کارکنوں کا استحصال کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان الزامات کو پیانگ یانگ کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا تھا۔

بیرونی ممالک میں مشکل حالات میں کام کرنے کے باوجود کئی منحرفین کا کہنا ہے کہ ان کاموں کی بہت مانگ ہے کیونکہ ان کاموں میں غربت کے شکار شمالی کوریا میں کام کرنے کے مقابلے میں بہتر اجرت ملتی ہے اس کے باوجود کی حکومت کی طرف سے اس میں کٹوتی کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ میں اس وقت شمالی کوریا کے مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے معاملے کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں بھیجنے کے بارے میں ایک مجوزہ قرار داد بھی زیر غور ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ سال اقوم متحدہ کی ایک رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں شمالی کوریا میں سیاسی قید خانوں کے ایک نیٹ ورک اور تشدد جس میں قتل اور غلام بنانے کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔

اگر اس مجوزہ قرارداد پر رائے شماری ہوتی ہے تو ممکنہ طور پر اس کو پیانگ یانگ کے اتحادی چین اور روس ویٹو کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG