رسائی کے لنکس

logo-print

قطر میں افغان طالبان سے ملاقات کے بعد خلیل زاد کابل پہنچ گئے: سرکاری بیان


افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد جنہیں ٹرمپ حکومت نے حال ہی میں اپنا خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت مقرر کیا ہے۔ (فائل)

ہفتے کی شام کو کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک اخباری بیان کے مطابق، دورہ پاکستان، سعودی عرب اور قطر سے واپسی کے بعد، امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد ہفتے کے روز کابل واپس پہنچے۔ یہاں قیام کے دوران، وہ صدر اشرف غنی اور چیف اگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ دیگر قائدین سے ملاقات کریں گے۔

اپنے تین ملکی دورے میں، ''خلیل زاد نے متمدن معاشرے کےگروپوں اور خواتین کی سرکردہ تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جس دوران اُنھوں نے اُن کے خیالات سننے کے علاوہ تنازع کے تصفئے کے حوالے سے ترجیحات پر گفتگو کی''۔

خلیل زاد نے کہا ہے کہ ''افغانستان میں امن کے حصول کے لیے، امریکہ تمام افغانوں کی خواہشات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کوشش میں تمام افغان اپنے آپ کو شامل سمجھیں۔ لازم ہے کہ افغانستان کے تمام شہری اپنے آپ کو اس مفاہمتی عمل کا حصہ سمجھیں''۔

اخیاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ واپس آنے پر، نمائندہ خصوصی امریکی حکومت کے مختلف اداروں اور بین الاقوامی پارٹنروں کے ساتھ اجلاس کریں گے۔

ادھر طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر پیج پر شائع کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''خلیل زاد کے ساتھ جمعے کو دوحہ میں ملاقات ہوئی''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ، محمد عباس ستانگزئی نے افغان وفد کی قیادت کی۔ طالبان کی ٹیم میں دفتر کے نائب سربراہ مولوی عبدالسلام حنیفی؛ صلاح الدین دلاور، قاری دین محمد، زاہد احمدزئی اور محمد سہیل شاہین شامل تھے''۔

طالبان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے ''قبضہ ختم کرنے اور افغان تنازع کا پُرامن حل تلاش کرنے پر بات کی''۔

اس سے قبل، ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر میں ملاقات ہوئی ہے۔

اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا لیکن امکان ہے کہ ملاقات میں افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل میں طالبان کی شمولیت کے امکانات پر بات کی گئی۔

اخبار کے مطابق یہ ملاقات خلیل زاد کے قطر کے حالیہ دورے کے دوران ہوئی جو رواں ہفتے ہی مکمل ہوا ہے۔

خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد خلیل زاد کا خطے کا یہ پہلا تفصیلی دورہ تھا جس کے دوران وہ قطر کے علاوہ افغانستان، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی گئے۔

تاہم امریکی محکمۂ خارجہ نے قطر میں ہونے والی مبینہ ملاقات کی تصدیق یا تردید کرنے سے معذرت کی ہے۔

'وال اسٹریٹ جرنل' سے گفتگو میں محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا محکمہ مخصوص ملاقاتوں اور ان میں ہونے والی سفارتی نوعیت کی گفتگو کی تصدیق نہیں کرسکتا۔

ترجمان کے مطابق خلیل زاد نے خطے کے اپنے دورے کے دوران افغان تنازع کے کئی فریقین سے ملاقاتیں کیں جن میں افغانستان میں جاری تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل کے امکانات پر بات کی گئی۔

اگر خلیل زاد کی طالبان سے ملاقات کی خبر درست ہے تو گزشتہ چار ماہ کے دوران کسی اعلیٰ امریکی اہلکار اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان یہ دوسری براہِ راست ملاقات تھی۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے بھی دوحا میں افغان طالبان کے نمائندوں کےساتھ ملاقات کی تھی جس کا مقصد طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

امریکی عہدیدار سے ملاقات کرنے والے چار رکنی طالبان وفد کے ایک رکن نے بعد ازاں کہا تھا کہ اس ملاقات سے بہت مثبت اشارے ملے ہیں۔

طالبان افغان حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ بات چیت سے انکار کرتے آئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلا تک وہ تنازع کے حل کی بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

تاہم اس دوران طالبان نمائندوں کی مختلف ملکوں کے وفود کے ساتھ ملاقاتوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG