رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا میں 15 برسوں میں 1400 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد: رپورٹ


انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں ان اعداد و شمار کی بنیاد محدود عینی شہادتیں اور بلواسطہ معلومات کے اندازوں پر مبنی ہیں۔

جنوبی کوریا کی سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ایک ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے سال 2000ء سے اب تک تقریباً 1,400 شہریوں کی سزائے موت پر سرعام عمل کیا ہے۔

یہ بات کورین یونیفیکیشن کے ادارے نے بدھ کو شمالی کوریا کی انسانی صورت حال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہی۔

جنوبی کوریا کے ریسرچ کے ادارے کے مطابق ان اعداد و شمار کی بنیاد 2008ء سے 2014ء کے درمیان شمالی کوریا سے منحرف ہونے والے لوگوں سے کیے جانے والے تفصیلی انٹرویوز ہیں۔

اس وائٹ پیپر کے مطابق 2008ء میں سب سے زیادہ تعداد میں شمالی کوریا میں سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا جس کی تعداد 161 بتائی جاتی ہے جبکہ 2012ء سے ان میں کمی آنی شروع ہو گئی جو اب ہر سال درجنوں کی تعداد میں ہے۔

انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں ان اعداد و شمار کی بنیاد محدود عینی شہادتیں اور بلواسطہ معلومات کے اندازوں پر مبنی ہیں۔

یہ وائٹ پیپر شمالی کوریا کے اس دعویٰ کو مسترد کرتا ہے کہ اس کے ہاں شاز و نادر ہی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس نے رواں سال جنوری میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہی تھی۔

پیانگ یانگ کی طرف سے جنوبی کوریا کی طرف سے لگائے جانے والے نئے الزامات پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG