رسائی کے لنکس

نقیب اللہ کو قتل سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا: رپورٹ


نقیب اللہ کے قتل کے خلاف کراچی میں ہونے والے ایک مظاہرے کا منظر

مقتول نقیب کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کے سر کے پچھلے حصے اور چہرے پر زخم کے نشانات تھے۔ نقیب کے جسم پر سگریٹ سے جلائے جانے کے نشانات بھی تھے۔

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ کے قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نقیب کو قتل سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ کو ملنے والی 10 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد کے مطابق نقیب اللہ کو حراست میں لینے کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا۔

مذکورہ رپورٹ انسانی حقوق کمیشن کے تین ارکان - ڈائریکٹر جنرل آفتاب عالم، ڈائریکٹر سید خضر علی شاہ اور لا افسر میاں وقار نے مکمل تحقیق کے بعد مرتب کی ہے جسے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ بھیج دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کے دہشت گردوں سے مقابلے کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔

رپورٹ کی تیاری کے لیے انسانی حقوق کمیشن نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے بیانات ریکارڈ کیے۔ کمیشن نے پولیس مقابلہ کرنے والے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بھی آئی جی کے ذریعے طلب کیا تھا لیکن راؤ انوار خط ملنے کے باوجود کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ کو قتل سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

کمیشن نے نقیب اللہ کو غسل دینے والے کا بیان بھی حاصل کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ مقتول نقیب کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کے سر کے پچھلے حصے اور چہرے پر زخم کے نشانات تھے۔ نقیب کے جسم پر سگریٹ سے جلائے جانے کے نشانات بھی تھے۔

کمیشن کو دیے گئے اپنے بیان میں نقیب اللہ کے بہنوئی نے بتایا کہ نقیب اللہ نے کپڑے کے دکان کھولنے کے لیے ایک لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے تھے اور اسی رقم کی وجہ سے ان کے بقول نقیب اللہ راؤ انوار کے بھتہ خوروں کی نظر میں آیا۔

کمیشن نے نقیب کے ساتھ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دو دوستوں کے بیانات بھی حاصل کیے ہیں۔ حضرت علی اور قاسم کو نقیب اللہ کے ساتھ 3 جنوری کو پولیس نے اٹھایا تھا لیکن ان کی گرفتاری کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

دوستوں کے مطابق تینوں کو کراچی کی سچل پولیس چوکی لے جایا گیا تھا جہاں سے بعد میں نامعلوم مقام پر منتقل کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دوستوں کا کہنا ہے کہ آخری مرتبہ نقیب اللہ کو 6 جنوری کو ٹارچر سیل میں زندہ دیکھا تھا۔ تین روز بعد حضرت علی اور قاسم کو زبان کھولنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دے کر رہا کردیا گیا تھا۔

نقیب اللہ کی لاش وصول کرنے والے ان کے عزیز سیف الرحمن کے بیان کے مطابق ان سے پولیس نے اپنی مرضی کے بیان پر دستخط کرائے اور دستخط نہ کرنے کی صورت میں لاش نہ دینے کی دھمکی دی تھی۔

کمیشن نے آئی جی سندھ اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کے بیانات بھی حاصل کیے ہیں جس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی ثناء اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کے خلاف کسی بھی تھانے میں کوئی مقدمہ درج نہیں۔

ثناء اللہ عباسی کے بقول گرفتار دہشت گرد قاری احسان نے بھی نقیب اللہ کو پہچاننے سے انکار کیا۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس مقابلے کی جگہ پر 26 گولیوں کے خول کھڑکی کے باہر سے ملے اور شواہد سے ظاہر ہوا کہ پورا مقابلہ اسٹیج کیا گیا تھا۔

کمیشن نے اپنی سفارشات بھی تیار کی ہیں جن کے مطابق نقیب اللہ کے ساتھ مرنے والے تین دیگر افراد کی بھی ایف آئی آر درج کرنے اور اس کیس کی مکمل جوڈیشل انکوائری کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس میں خود احتسابی کے عمل کو بہتر بنایا جائے اور تفتیشی نظام اور پیشہ ورانہ تربیت میں بہتری لائی جائے۔

کمیشن کے مطابق پولیس حکام کی طرف سے دی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق راؤ انوار نے 192 مقابلوں میں 444 افراد کو ہلاک کیا۔ راؤ انوار کے یہ پولیس مقابلے سوالیہ نشان ہیں۔

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ راؤ انوار کے تمام مقابلوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور پولیس فورس میں مجرمانہ عناصر کی نشان دہی اور طاقت کا غلط استعمال روکنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ریاست اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کریمنل کیس درج کرکے معاملے کو انجام تک پہنچائے۔

کمیشن کی یہ رپورٹ قومی اسمبلی کو بھیج دی گئی ہے اور امکان ہے کہ یہ رپورٹ ملنے کے بعد ارکانِ اسمبلی اس معاملے کو ایوان میں اٹھائیں گے۔

XS
SM
MD
LG