رسائی کے لنکس

logo-print

ہر دوسرے بھارتی شہری نے گزشتہ سال رشوت دی: رپورٹ


فائل فوٹو

بھارت میں ہونے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہر دو میں سے ایک بھارتی شہری نے کسی نہ کسی معاملے میں رشوت دی ہے۔ کرپشن سے متعلق ایک رپورٹ میں رشوت کو روز مرہ کے معاملات میں عام قرار دیا گیا ہے۔

یہ سروے ایک کرپشن سے متعلق کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ کے بھارتی دفتر (ٹی آئی آئی) نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’لوکل سرکلز‘ کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران رشوت کے رجحان میں 10 فی صد تک کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ رجحان بھارتی شہریوں اور اداروں میں اب بھی بہت زیادہ ہے۔

سروے میں شامل افراد میں سے 51 فی صد لوگوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران ایک یا ایک سے زائد مرتبہ رشوت دی یعنی ہر دو میں سے ایک بھارتی شہری رشوت دے چکا ہے۔

سروے میں شامل افراد میں سے 51 فی صد لوگوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران ایک یا ایک سے زائد مرتبہ رشوت دی۔ (فائل فوٹو)
سروے میں شامل افراد میں سے 51 فی صد لوگوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران ایک یا ایک سے زائد مرتبہ رشوت دی۔ (فائل فوٹو)

سروے میں بھارت کی 20 ریاستوں کے ایک لاکھ 90 ہزار رہائشیوں سے ان کی رائے لی گئی تھی۔ سروے میں شامل 24 فی صد لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں متعدد مرتبہ رشوت دی جب کہ 27 فی صد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے ایک یا دو بار رشوت دی۔

ٹی آئی آئی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بھارت میں کرپشن روزمرہ کے معمولات کا عام حصہ ہے اور رشوت کا رجحان شہری اور مقامی سطح پر کام کرنے والے سرکاری اداروں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جائیداد کی رجسٹریشن اور زمین سے متعلقہ مسائل کرپشن کا سب سے بڑا گڑھ ہیں۔ ایک چوتھائی سے زائد لوگوں نے اسی سے متعلقہ سرکاری اداروں میں رشوت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رشوت کا رجحان شہری اور مقامی سطح پر کام کرنے والے سرکاری اداروں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)
رپورٹ کے مطابق رشوت کا رجحان شہری اور مقامی سطح پر کام کرنے والے سرکاری اداروں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

رپورٹ کے مطابق رشوت لینے والے اداروں میں پولیس دوسرے نمبر پر ہے۔ سروے میں شامل 19 فی صد لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر پولیس کو رشوت دی۔

اس کے علاوہ متعدد لوگوں نے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ، ٹرانسپورٹ آفس، میونسپل کارپوریشن اور دیگر شہری سرکاری اداروں میں رشوت دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کرپشن اور رشوت کے خلاف کریک ڈاؤن کی کوشش کی ہے اور اسی ضمن میں گزشتہ سال انسدادِ بدعنوانی بل میں ترمیم بھی کی گئی۔ نئے ترمیمی بل میں رشوت کی سزا سات سال قید یا جرمانہ مقرر کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں لیکن ابھی مقامی سطح پر تبدیلی آنا شروع نہیں ہوئی۔ صرف 6 فی صد لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کی شہری یا ریاستی حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات کیے ہیں جب کہ زیادہ تر نے یہی کہا کہ کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

سروے میں شامل 19 فی صد لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر پولیس کو رشوت دی۔ (فائل فوٹو)
سروے میں شامل 19 فی صد لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر پولیس کو رشوت دی۔ (فائل فوٹو)

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سرکاری اداروں میں کرپشن کے لحاظ سے درجہ بندی میں بھارت 41 ویں نمبر پر ہے۔ خیال رہے کہ اس فہرست میں ابتدائی 50 نمبروں پر آنے والے ملکوں کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہاں کرپشن کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG