رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کا آخری جوہری تجربہ، زلزلے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے: رپورٹ


شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن جوہری ہائیدرجن بم کا تجربہ کرنے والے سائنسدانوں کے ہمراہ (فائل)
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن جوہری ہائیدرجن بم کا تجربہ کرنے والے سائنسدانوں کے ہمراہ (فائل)

شمالی کوریا کی طرف سے ستمبر میں کیے جانے والےجوہری دھماکے کے بعد آنے والے مصنوعی زلزلے میں اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں گر گئیں اور متعدد افراد بشمول سکول کے بچے ہلاک ہوئے۔

شمالی کوریا نے 3 ستمبر کو اپنا چھٹا کامیاب جوہری تجربہ کیا جو ہائیڈروجن بم کا تجربہ تھا جسے بین البراعظمیٰ میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت چین اور امریکہ کے زلزلے کے ماہرین نے بتایا تھا کہ اس دھماکے کی وجہ سے پنگ ری کے علاقے میں کم گہرائی کے دو زلزلے آئے جہاں شمالی کوریا کی جوہری تنصیب واقع ہے۔

جاپان، جنوبی کوریا کے حکام اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان زلزلوں کی ممکنہ وجہ جوہری تجربہ تھا۔

جنوبی کوریا کے' چوسن البو' اخبار کے مطابق ایک ذرائع جس نے حال ہی میں اس جگہ کا دورہ کیا، کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے وہاں ہونے والے نقصان سے ساؤتھ اور نارتھ ڈی ویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو آگاہ کیا۔ یہ ادارہ شمالی کوریا کے منحرفین کے ساتھ کام کرتا ہے۔

تاہم اس ذرائع کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

اخبار نے اس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سندونگ ری کے گاؤں میں کئی مکان اور ایک اسکول منہدم ہو گیا اور درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

چوسن البو کے مطابق " 3 ستمبر کو اتوار تھا لیکن 150 بچے کچھ کام کرنے کے لیے اپنے کلاس روم میں انتظار کر رہے تھے۔ اور لوگ اس وقت ہلاک و زخمی ہوئے جب اسکول کی عمارت کا نصف حصہ منہدم ہو گیا ۔"

ماہرین کے مطابق ستمبر میں ہونے والے پہلے دھماکے کے بعد 6.3 شدت کا زلزلہ آیا اور اس کی شدت وہی تھی جو ایک میگا ٹن ہائیڈروجن بم کے دھماکے کرنے سے پیدا ہونے والے زلزلے کی ہو سکتی ہے۔ پانچ منٹ کے بعد ماہرین زلزلہ نے 4.6 شدت کے زلزلے کی نشاندہی کی جو بظاہر ممکنہ بطور اس سرنگ کے منہدم ہونے کو ظاہر کرتا ہے جہاں یہ جوہری تجربہ کیا گیا تھا۔

اکتوبر میں جاپان کے ایک ٹی وی چینل 'آساہی' نے پنگ ری کی جوہری تنصیب کے قریب ایک زیر زمین سرنگ کے منہدم ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر 200 افراد کے ہلاکت کا سبب بنی۔

امریکہ کے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اکتوبر میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دو ہزار میٹر سے بلند پہاڑی چوٹی ماؤنٹ مین ٹاپ جس کے نیچے یہ تجربات کیے گئے تھے، وہ اتنی خستہ حال ہو گئی ہے کہ یہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے اور اس کی وجہ سے جوہری دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکاری کا اخراج ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG