رسائی کے لنکس

محکمہٴ موسمیات کے مطابق، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو روز بعد سے ناصرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ مئی اور جون میں یہ اپنے عروج پر ہوگی

کراچی میں گزشتہ کئی دنوں سے گرمی کی لہر آئی ہوئی ہے اور سورج آگ برسا رہا ہے۔ ادھر لو لگنے کی خبریں بھی گردش میں ہیں جس کے پیش نظر اسپتالوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرلیں۔

ڈائریکٹر جنرل صحت صوبہ سندھ ڈاکٹر ایم توفیق کا کہنا ہے کہ دو روز بعد اپریل کا مہینہ شروع ہو رہا ہے جس میں گرمی شدید ہوجائے گی۔ انہوں نے مختلف مقامات پر میڈیکل ریلیف کیمپس قائم کرنے کے لئے سروے شروع کرنے پر بھی زور دیا ہے، تاکہ ’ہیٹ ویو‘ سے بچنے کے لئے طبی کیمپ لگائے جا سکیں۔

ادھر قائم مقام چیف میٹرو لوجسٹ، عبدالرشید نے کراچی میں ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’’عالمی حدت کی وجہ سے دنیا بھر میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔‘‘

عبدالرشید کا کہنا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو روز بعد سے ناصرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ مئی اور جون میں یہ اپنے عروج پر ہوگی۔

عبدالرشید نے عالمی محکمہٴ موسمیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال بھی پچھلے سالوں کی طرح گرم گزرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ اس سال گرمی کے سابقہ ریکارڈ نہ ٹوٹ جائیں۔

عبدالرشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہیٹ ویو‘ کا خدشہ اس سال بھی برقرار ہے؛ جس صورت میں محکمہ تین دن پہلے الرٹ جاری کردے گا، تاکہ متعلقہ ادارے اور شہری بروقت حفاظتی اقدامات کرسکیں۔

سندھ پیاسا ہے
دریا اورسمندر رکھنے کے باوجود سندھ کی دھرتی میں پیاس کی فصل اگنے لگی ہے۔ روز بہ روز بدلتے موسم اور تیز سے تیز تر ہوتی سورج کی تمازت نے سرسبز اور لہلاتے کھیتوں کو نظر لگادی ہے۔

سکھر ،ٹھٹھہ اور کوٹری کے بیراجوں میں پانی کے بجائے خاک اڑ رہی ہے۔ محکمہٴ آبپاشی نے بیراجوں میں پانی کی شدید قلت کی وجہ تربیلا ڈیم کا ڈیڈ لیول پر پہنچنا بتایا ہے۔ سال دوہزارسولہ میں بارشیں کم ہونے سے تربیلا میں پانی کی سطح کم ہوئی تو، ’ارسا‘ نے بھی 40 فیصد پانی کی کمی کا اعلان کردیا۔

صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ کی فصلوں کو بر وقت اور مناسب مقدار میں پانی نہ ملا تو نقصان شدید ہو سکتا ہے۔

سترہ برس میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سندھ کے بیراجوں میں پانی کی سطح میں 75 فیصد سے زائد کمی ہوئی۔ بالائی علاقوں میں اگر ابر رحمت کھل کر نہ برسا تو پانی صرف پینے کے لئے فراہم کیا جا سکے گا، کاشتکاری کے لئے نہیں۔

سندھ حکومت نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے یہ وہ نقصان سے بچنے کے لئے فصلیں دیر سے کاشت کریں۔ سکھر بیراج کنٹرول کے انچارج عبدالعزیز سومرو کے مطابق بارشیں خاطر خواہ نہ ہونے کی وجہ سے ’ارسا‘ نے 40 فیصد پانی کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن، اگر بارشیں نہ ہوئیں تو یہ کمی 40 سے 50 فیصد تک ہو جائے گی۔ پانی کی قلت کے پیش نظر ہی کاشتکاروں کو فصل تاخیر سے کاشت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ضلع ٹھٹھہ بھی پانی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔کینجھر جھیل میں بھی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے جبکہ مکلی، گھوڑاباری، میرپور ساکرو، غلام اللہ، کیٹی بندر، جھم پیر، جنگ شاہی، گاڑہو، ور، جِھرک، چَھتو چَنڈ اور سونڈا کے شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، گھروں اور مساجد میں پینے اور وضو کے لیے پانی نہیں اور فصلیں سوکھ رہی ہیں۔

صوبے کے کئی علاقوں میں واقع کنویں مکمل طور خشک ہوگئے ہیں اور علاقہ مکین پندرہ، بیس کلومیٹر دور سے پیدل پانی لانے پر مجبور ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جلد اس طرف توجہ نہ دی گئی تو صورتحال بھیانک اور مزید تشویشناک ہوجائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG