رسائی کے لنکس

logo-print

’وی او اے کو غیرجانبدارانہ خبریں جاری کرنے سے نہیں روکا جا سکتا‘


ادارے کی ڈائریکٹر نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو ’وی او اے‘ کے نمائندوں کو مارا پیٹا اور ہراساں کیا، ’’جب کہ وہ اپنا پیشہ ورانہ کام انجام دے رہے تھے‘‘۔اُن کے الفاظ میں ’’دھمکانے کے عمل کا الٹ اثر ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ کو سچ جاننے اور عام کرنے کے عمل سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘

’وائس آف امریکہ‘ کی ڈائریکٹر، امندا بنیٹ نے کہا ہے کہ اس ہفتے عراق اور پاکستان میں ’’حکام کے ہاتھوں، وائس آف امریکہ کے دو صحافیوں کو ہراساں کرنے اور مار پیٹ کے افسوس ناک واقعات سامنے آئے ہیں، ایسے میں جب وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے تھے‘‘۔

اِن میں سے ایک ’ڈیوا سروس‘ کے نمائندے نعمت اللہ سرحدی ہیں، جب کہ دوسری ’کرد سروس‘ کی خاتون نامہ نگار، زہار محمد ہیں، جنھیں ہراساں اور زد و کوب کیا گیا۔

جمعے کے روز ایک اخباری بیان میں بنیٹ نے کہا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ سکیورٹی فورسز نے وائس آف امریکہ کے اِن نمائندوں کو مارا پیٹا اور ہراساں کیا، جب کہ وہ بے لاگ اطلاعات فراہم کرنے کا اپنا پیشہ ورانہ کام انجام دے رہے تھے‘‘۔

اُن کے الفاظ میں ’’دھمکانے کے عمل کا الٹ اثر ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ کو سچ جاننے اور عام کرنے کے عمل سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔

نعمت اللہ سرحدی پر 12 مئی، جمعرات کی رات گئے مقامی پولیس نے بلوچستان کے قصبے چمن میں حملہ کیا، جب وہ رپورٹنگ کرکے واپس گھر لوٹ رہے تھے۔ جب سرحدی نے وی او اے کے رپورٹر کے طور پر اپنی شناخت کرائی تو پولیس نے اُنھیں بری طرح سے زد و کوب کیا، یہاں تک کہ اُن کی ناک سے خون بہنے لگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے پر، ایک راہگیر نے اہل کاروں کو قائل کیا کہ وہ سرحدی کے ساتھ زیادتی نہ کریں۔

جمعے کے روز مقامی صحافیوں نے چمن میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ’’تشدد کی اس کارروائی کی مذمت کی گئی‘‘۔

’وی او اے ڈیوا‘، وائس آف امریکہ کے مقبول پشتو زبان کی نیوز سروس ہے جو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے کے لیے نشریات فراہم کرتی ہے۔

زہار محمد ایک رپورٹر ہیں، جن کا تعلق وائس آف امریکہ کی ’کُرد سروس‘ سے ہے۔ اُن پر جمعرات کو اُس وقت حملہ کیا گیا جب وہ عراقی کردستان کے علاقے سلیمانیہ کے شہر کی ایک مسجد کے باہر ہونے والے احتجاج کی کوریج کر رہی تھیں۔

اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ کُرد سکیورٹی فورسز (کے ایس ایف) کی وردی میں ملبوس ایک اہل کار نے رہار محمد سے کیمرا اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُنھیں مارا پیٹا جائے گا۔

جب رہاز نے ایسا کرنے سے انکار کیا، تو اہل کار نے اُن کے سر پر گھنسا دے مارا، جس سے اُن کی عینک ٹوٹ گئی۔ باوجود اِس کے، رپورٹر نے اپنا سامان اپنے ہی پاس رکھا اور کوریج میں مصروف ہوگئیں، جس پر بالآخر ’کے ایس ایف‘ کے دیگر ارکان نے اُس اہل کار کو وہاں سے ہٹا دیا۔

براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنرز (بی بی جی) کے سربراہ اور ڈائریکٹر، جان لینسنگ نے پاکستان، عراق اور دنیا بھر کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’اس قسم کے جارحانہ حربوں سے گریز کریں، جن کا صرف یہی مقصد ہے کہ غیر جانبدار صحافت اور آزادی اظہار کو خاموش کرایا جائے‘‘۔

جان لینسنگ نے کہا ہے ’’بغیر لگی لپٹی کے بلند معیار کی پابند روایت کو دھمکیاں دینا، بنیادی انسانی حقوق سے انکار کے مترادف ہے، جس بات کی کسی بھی حکومت کو حمایت نہیں کرنی چاہیئے‘‘۔

یاد رہے کہ ’وائس آف امریکہ’ کی ’ڈیوا ٹی وی اور ریڈیو سروس‘ پاکستان و افغانستان کے اہم سرحدی خطے میں خبریں اور اطلاعات فراہم کرتی ہے، جہاں پانچ کروڑ سے زیادہ پشتون آباد ہیں۔

XS
SM
MD
LG