رسائی کے لنکس

سرحد پار سے مبینہ گولہ باری رابطوں اور تعاون کی کوششوں کی خلاف ورزی قرار


صوبہ کنڑ کے ساتھ ملنے والی پاکستان افغان سرحد (فائل)

پاکستان نے گزشتہ ہفتے سرحد پار سے ہونے والی مبینہ گولہ باری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، اسے "دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں اور تعاون کے مشترکہ میکنزم کی خلاف ورزی'' قرار دیا ہے۔ ​

قبل ازیں، افغان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ سے متصل افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے علاقے میں پاکستانی فورسز کی جانب سے ہونے والی مبینہ گولہ باری کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے​

تاہم، پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان، عائشہ فاروقی نے جمعرات کو نیوز بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ افغانستان کی سیکورٹی فورسز نے 14 جولائی کو سرحد پار سے ''بلااشتعال گولہ باری کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مہمند اور باجوڑ کے اضلاع میں عام شہری آبادی کو نشانہ بنایا''۔

اس دوران، ترجمان کے بقول، "چار گولے سول آبادی میں گرے، جس کی وجہ سے مال و مویشیوں کو نقصان پہنچا، جب کہ ایک شہری زخمی ہوا"۔

پاکستان دفتر خارجہ کی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ 15 جولائی کو دوبارہ افغان سیکیورٹی فورسز نے مہمند اور باجوڑ کے بعض علاقوں پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں تین عام شہری ہلاک اور سات شہری اور پاکستان فوج کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ پرامن ہمسایہ کے طور پر، پاکستان توپ خانے سے سرحد پار گولہ باری نہیں کرتا۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے درخواست کی ہے کہ وہ رابطوں اور تعاون کے موجودہ میکنزم کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے، اس پر پوری طرح سے عمل پیرا ہو۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان کے بیان پر تاحال افغان حکومت کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

لیکن، حال ہی میں افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے کنڑ کے اس علاقے کا دورہ کیا، جو افغان حکام کے دعوے کے مطابق، سرحد پار سے گولہ باری کا نشانہ بنا تھا۔

حمد اللہ محب نے اس موقع پر کہا کہ وہ اپنے علاقے میں کسی فوجی تنصیب کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے بقول، سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔

پاک افغان سرحد کی نگرانی کو سخت بنانے کی غرض سے پاکستان سرحد پر باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کو موثر بنانے کے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔

ادھر، افغانستان کی جانب سے سرحد کو ''حل طلب معاملہ'' قرار دیتے ہوئے، ان اقدامات پر اعتراض بھی کیا جاتا رہا ہے، جسے پاکستان مسترد کرتا آ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG