رسائی کے لنکس

مسعود اظہر پر پابندی کی تجویز کو پھر 'چین نے موخر' کر دیا


مسعود اظہر (فائل فوٹو)

بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی تناظر میں طویل المدت اور بامقصد خارجہ پارلیسی وضع کرے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو ایک بار پھر "چین نے موخر" کر دیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی میں امریکہ نے مسعود اظہر کے خلاف تجویز دی تھی اور اسے سلامتی کونسل کے دیگر دو مستقل رکن ممالک برطانیہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ لیکن چین نے تکنیکی بنیادوں پر اس میں پیش رفت کو روک دیا۔

پاکستان میں موجود مسعود اظہر کو بھارت اپنے ہاں مختلف دہشت گرد واقعات بشمول گزشتہ سال جنوری میں پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر حملے کا مبینہ منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔

قبل ازیں دو بار بھارت کی طرف سے مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پر بھی عملدرآمد چین کی مداخلت کے باعث نہیں ہو سکا تھا۔

پاکستان نے مسعود اظہر کے پٹھان کوٹ حملے میں ملوث ہونے سے متعلق بھارت کی معلومات پر اپنے ہاں تفتیش کے بعد کہا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ جن سے مسعود اظہر کا اس واقعے سے تعلق ثابت ہوتا ہو اور حکام کے بقول اگر اس بارے میں بھارت کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو پاکستان کو فراہم کیے جائیں۔

نئی دہلی کی طرف سے پابندی کے لیے کی جانے والی ان کوششوں کو پاکستان بھارت کی مبینہ طور پر دہشت گردی کی سرگرمیوں سے توجہ ہٹانے کا ایک سیاسی حربہ قرار دیتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسعود اظہر پر پابندی کی تجویز اس بار امریکہ نے دی تھی۔

حال ہی میں پاکستان نے جماعت الدعوۃ نامی تنظیم کے سربراہ حافظ سعید کو نظر بند کیا ہے جن پر بھارت یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ نومبر 2008ء میں ممبئی دہشت گرد حملے کرنے والی تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ رہے ہیں۔

تاہم پاکستانی عہدیداروں کے مطابق حافظ سعید کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کی گئی تعزیرات کے تناظر میں کی گئی۔

ایک عرصے سے پاکستان پر حافظ سعید اور مسعود اظہر سے متعلق کارروائیوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ جیش محمد تو پابندیوں کی بین الاقوامی فہرست میں شامل ہے لیکن مسعود اظہر کا نام ابھی تک اس میں نہیں آ سکا ہے۔

سینیئرتجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی قوتیں پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی تناظر میں طویل المدت اور بامقصد خارجہ پارلیسی وضع کرے۔

"پاکستان کی حکومت کو اس چیز پر غور کرنا پڑے گا کہ اصل کیا وجہ ہے کہ دنیا کا تصور ان دو راہنماؤں (حافظ سعید، مسعود اظہر) کے بارے میں وہ نہیں ہے جو پاکستان کا ہے اور کب تک وہ چین پر انحصار کرتا رہے گا۔۔۔تو میرا خیال پاکستان کو اپنی پالیسی کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کے طویل المدت مقاصد کیا ہیں اور اس کے بعد پالیسی کو خودمختار بنانا چاہیے نا کہ ایسی پالیسی جس میں دہشت گرد گروپ ملوث ہیں وہ صرف چین کی وجہ سے بچا ہوا ہے جو کہ میرے نزدیک ایک دانشمدانہ پالیسی نہیں ہے۔"

گزشتہ ماہ ہی پاکستان کے ایوان بالا کی قائمہ کیمٹی برائے انسانی حقوق نے بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق تجاویز کی آخر چین مخالفت کیوں کرتا ہے اور اگر یہ پاکستان کی ایما پر کیا جا رہا ہے تو حکومت اس کی وضاحت دے اور اپنی سمت درست کرے۔

موجودہ حکومت یہ کہتی آرہی ہے کہ وہ ملک میں ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہے اور جن افراد کے خلاف کسی بھی طرح کی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو ان کے خلاف بھی ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG