رسائی کے لنکس

رپورٹر ڈائری: دو سال بعد کابل کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی صورتِ حال پر رپورٹنگ کے لیے کابل آنا ہوا تو امیگریشن ڈیسک مکمل ویران پڑی تھی۔ لیکن دو سال بعد کابل کی صورتِ حال میں نہ صرف تبدیل بلکہ کسی حد تک بہتر ی بھی آئی ہے۔

کابل کے حامد کرزئی ائیرپورٹ پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اہلکار بھی امیگریشن ڈیسک پر خدمات کی فراہمی کے لیے موجود ہیں۔ خواتین اہلکار مسافروں کے پاسپورٹس اور ویزا چیک کرنے کے بعد اسٹیمپ لگا کر واپس تھما دیتی ہیں۔

البتہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان تواتر کے ساتھ پرواز کرتی 'کام ایئر' میں ایئرہوسٹس کی جگہ صرف میل اسٹیورڈ ہی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔

ایئر پورٹ کے اندر اور باہر طالبان کے سفید جھنڈوں کو واضح طور پر لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کابل کی در و دیوار اور بل بورڈز پر کہیں پر بھی خواتین کی تصاویر نہیں۔ان کی جگہ طالبان کے نظریات پر مبنی خطاطی نے لے لی ہے۔

کابل کی دیواروں پر لکھی تحریریں طالبان کی امریکہ کے خلاف 'فتح' اور مبارک باد سےپر ہیں۔راستے میں طالبان کی کئی چیک پوائنٹس موجود ہیں جن پر مامور اہلکاروں کا رویہ دوستانہ تھا۔

شروع کے دنوں میں طالبان حکومت کے جھنڈے ہر جگہ فروخت کیے جاتے تھے۔ کیوں کہ یہ ایک منافع بخش کاروبارتصور کیا جا رہا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر یہی جھنڈے سابق حکومت کے اہلکار بھی فروخت کرتے تھے۔

طالبان کی فراٹے بھرتی گاڑیوں کو صبح شام شہر اور اطراف میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلےان پر بڑے بڑے جھنڈے نصب ہوتے تھے اور اب صرف خال خال گاڑی پر طالبان کا جھنڈا نظر آتاہے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ان دو سالوں کے دورا ن عالمی سطح پر تا حال کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان دو سالوں میں اگرچہ ملک میں مہنگائی میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا تاہم وسائل اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ہر طرف اضطراب اور بے چینی ہے۔

سیاحوں کے لیے مشہور 'چکن اسٹریٹ' جو اینٹیکس اور قالینوں کےلیے مشہور ہے، اب ویرانی کا منظر پیش کرتی ہے۔بی بی لیلیٰ چکن اسٹریٹ میں عرصہ دراز سے اینٹیک کی ایک دکان چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کےدوران خریداری تو نہیں ہوتی البتہ وہ اپنے کارکنوں کے ہمراہ چائے کے کئی تھرموس خالی کر جاتی ہیں۔

طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی خواتین پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جن میں روزگار اور اسکول جانے پرپابندی، بغیر محرم کے 70 کلومیٹر سے زائد سفر پر پابندی، عوامی مقامات پر برقعے کا لازمی استعمال اور حال ہی زیب و آرائش گاہ (بیوٹی پارلر) پر پابندی شامل ہے۔

طالبان کی جانب سے برقعہ کے لازمی استعمال کے اقدام کو کسی حد تک افغان خواتین نے چیلنج کیا ہے۔افغان خواتین کوچادر، نقاب اور اپنی پسند کے لباس کے ساتھ بازاروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

کابل کے اندرونِ شہر میں جب ایک خاتون سے برقع سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ طالبان ان کے علاقے میں آئے تھے کہ برقع کی پابندی کریں جس پر انہوں نے طالبان سے کہا کہ نئے نئے رواج اپنی دھرتی پر رائج نہ کریں۔

خاتون کے بقول، انہوں نے طالبان سے سوال کیا کہ کیا آپ کی اپنی خواتین برقع اوڑھتی ہیں؟جواب نہ پانے کی صور ت میں وہ واپس چلے گئے۔

اگرچہ افغانستان میں وسائل تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں اور روزگار کے مواقع تیزی سے سکڑرہے ہیں لیکن افغان کرنسی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔مثلاً دو سال قبل افغان کرنسی پاکستانی روپے کے مقابلے میں دگنی تھی جب کہ ایک امریکی ڈالر تقریباً 90 افغانی کا تھا۔ اب ایک امریکی ڈالر 83 افغانی کا ہے۔

افغانستان کو اگر تازہ اور ڈرائی فروٹس کی جنت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ تاہم افغانی کرنسی کی مضبوطی کی وجہ سے پاکستانی روپوں میں خشک میوہ جات خریدنا تھوڑا مہنگا پڑتا ہے۔

کابل کے وسط میں قائم گل بہار مارکیٹ بنیادی طور پر برانڈڈ اشیا کے لیے مشہور ہے جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی لیکن اب وہاں خال خال ہی لوگ نظر آتے ہیں۔

اسی مارکیٹ میں ژالہ عارفی گزشتہ سات سال سے کاسمیٹکس کی دکان چلاتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کی توقعات کے برعکس ان کا کاروبار بہت اچھا جارہا تھا۔ میرے استفسار پر کہ جب کسی کے پاس پیسے ہی نہیں تو پھر برانڈڈ اشیا پر مشتمل آپ کی دکان کیسے اچھی چل رہی تھی؟ ژالہ نے مسکراتے ہوئے بتایا " زیادہ تر گاہک خود طالبان ہی تھے۔ وہ اپنے لیے بہترین عطر جب کہ گھر کی خواتین کے لیے کاسمیٹکس خریدتے تھے۔

ژالہ کے مطابق ایک ماہ سے ان کے کاروبار میں تقریباً ستر فی صد کمی آئی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ طالبان کی جانب سے حال ہی میں لگائی جانے والی بیوٹی پارلر زپر عائد پابندی ہے۔

افغانستان اس وقت اقتصادی مسائل سے دوچار ہے لیکن طالبان اہلکار خوش دکھائی دیتے ہیں۔کابل میں بطور سپروائزر ایک چیک پوسٹ پر مامور ایک طالب اہلکار کے مطابق انہیں باقاعدگی کے ساتھ تنخواہ ملتی ہے۔

تیس سالہ طالب اہلکار نے بتایاکہ ان کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ افغان کلچر میں جلدی شادی کا رواج ہے، تاخیر سے شادی کرنے سے متعلق سوال پر طالب اہلکار نے بتایا کہ سابق ادوار میں کوئی بھی گھرانہ طالبان کو اپنی بیٹی نہیں دیتا تھا ۔ کیوں کہ انہیں خدشہ ہوتا تھا کہ جنگ کی وجہ سے کہیں ان کی بیٹی بیوہ نہ ہو جائے۔

طالب اہلکار کے مطابق اب حالات یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔ اب لوگ اپنی بیٹیوں کی شادیاں طالبان کے ساتھ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

فورم

XS
SM
MD
LG