رسائی کے لنکس

رپورٹر ڈائری: ’نواز شریف کئی برس بعد رکنِ اسمبلی بنے لیکن ان کے چہرے پر خوشی نہیں تھی‘


فائل فوٹو
فائل فوٹو

نو منتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس تو صبح 10 بجے شروع ہونا تھا۔ لیکن میں اس اجلاس کی کوریج کے لیے صبح آٹھ بجے ہی گھر سے نکل پڑا۔ وقت سے دو گھنٹے قبل اس لیے نکلنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اکثر اوقات اس طرح کے اجلاس سے پہلے پارلیمان کی طرف جانے والے راستے یا تو بند کر دیے جاتے ہیں یا ان پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔

آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی 16 قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کی بڑی تعداد کی پارلیمان آمد کے اندیشے کے سبب سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مرگلہ روڈ سے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف روانہ ہوا تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں دکھائی دیں۔ دیگر شاہراہیں بھی یا تو بند تھیں یا ان پر ٹریفک کا شدید دباؤ تھا۔

قومی اسمبلی کے داخلی راستوں پر تعینات اہلکار اجلاس کے لیے جاری کیے گئے خصوصی اجازت نامے چیک کر کے آگے جانے کی اجازت دے رہے تھے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس سے قبل مہمانوں کی گیلری کے لیے جاری کیے گئے خصوصی کارڈ اچانک منسوخ کر دیے جن صحافیوں کو معمول کے مطابق کوریج کارڈ ملتے تھے ان میں سے 50 فی صد سے بھی کم صحافی اجازت نامے ملنے کی شکایت کر رہے تھے۔ صحافی اجازت ناموں کے عدم اجرا کے سبب پریشان بھی تھے ۔

پارلیمنٹ کے داخلی گیٹ پر صحافیوں اور کیمرا پرسنز کا ہجوم تھا۔ ہمارے پاس پارلیمان کی کارروائی کی کوریج کے لیے اجازت نامہ موجود تھا اس لیے ہم پارکنگ گیٹ سے اندر داخل ہوگئے۔

قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس مقررہ وقت سے لگ بھگ سوا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل نو منتخب اراکین ایک دوسرے سے ملتے رہے۔

سانگھڑ سے نو منتخب رکن صلاح الدین جونیجو اجرک کی پگڑی پہن کے اجلاس میں ہوئے جس کے باعث وہ سب کی نگاہوں کے مرکز بنے رہیں۔ داوڑ کنڈی سرائیکی بیلٹ کی نیلے رنگ کی اجرک پہن کر شریک ہوئے۔

پہلی بار منتخب ہونے والے اراکینِ قومی اسمبلی کیا عزم رکھتے ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:56 0:00

سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی صاحب زادی آصفہ بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی گیلری میں آئیں تو پیپلز پارٹی کے اراکین ان کے پاس جا کر ملتے رہے۔

اسپیکر چیبمر والے گیٹ سے جب بلاول بھٹو زرداری ایوان میں داخل ہوئے تو پیپلز پارٹی کے اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔

پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز بھی مہمانوں کی گیلری میں قومی اسمبلی کی کارروائی یکھنے کے لیے موجود تھیں۔

عمرکوٹ سے منتخب رکن قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور وہیل چیئر پر ایوان میں داخل ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی مہتاب اکبر راشدی اور تحریکِ انصاف رہنما منزہ حسن ایوان میں آپس میں گفتگو کرتی رہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے آدھا گھنہ قبل ایوان کا ماحول اس وقت تبدیل ہونا شروع ہوا جب تحریکِ انصاف کی حمایت سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچ کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے اراکین ایوان میں داخل ہوئے۔

سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے تحریکِ انصاف کے اراکین عمران خان کی تصویر والے پلے کارڈ ہاتھوں میں لے کر نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے۔

تحریکِ انصاف کے اراکین ’کون بچائے گا پاکستان، عمران خان، عمران خان‘ اور ’میرا جگری، میرا یار، قیدی نمبر 804‘ کے ساتھ ساتھ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے لگاتے رہے۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکانِ اسمبلی کے ایوان میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔

انہوں نے عمران خان کے چہرے والے ماسک پہن کر رکھے تھے اور گلے میں پی ٹی آئی کے جھنڈے والے مفلرز پہنے ہوئے تھے جس سے لگ رہا تھا کہ وہ مجبوری کے سبب سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے اراکین اسپیکر کی ڈائس کے سامنے پہنچ کر احتجاج کرتے رہے۔

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری جب قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو پی پی پی کے ارکان ’ایک زرداری، سب پر بھاری‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے آصف علی زرداری کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس تلاوت، نعت اور قومی ترانے کے بعد شروع ہوا تو ایک مرتبہ پھر سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے نعرے بازی شروع کر دی۔

اجلاس شروع ہونے کے لگ بھگ دس منٹ بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نامزد وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے۔

ان کے ایوان میں داخل ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے ’دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے عمران خان کے خلاف بھی نعرے لگائے جب کہ تحریکِ انصاف کے اراکین نواز شریف کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین میں نعروں کا مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک حلف برداری شروع نہ ہوئی۔

حلف برداری تو صرف دو منٹ میں مکمل ہو گئی۔ لیک رول آف ممبر پر ہر رکن کی دستخط کرنے کا عمل ڈھائی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس طرح 336 اراکین کے ایوان میں سے 302 اراکینِ اسمبلی نے رول آف ممبر پر دستخط کر کے رکن بن گئے ہیں۔

اسپیکر نے سب سے پہلے ان اراکین کو رول آف ممبر پر دستخط کی اجازت دی جو اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

اس طرح مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سب سے پہلے رول آف ممبر پر دستخط کیے۔

آصف زرداری دستخط کے لیے جب اسپیکر ڈائس پر آئے تو پیپلز پارٹی کے اراکین کے ساتھ آصفہ بھٹو زرداری نے بھی گیلری سے نعرے لگائے۔

اس طرح جب میاں نواز شریف دستخط کرنے آئے تو مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے ’شیر آیا، شیر آیا‘ کے نعرے لگائے۔

ایوان میں اس وقت صورتِ حال بگڑنے لگی جب سنی اتحاد کونسل کے اراکین نواز شریف اور شہباز شریف کے سامنے عمران خان کی تصاویر لہرانے لگے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کے اراکین نواز شریف کی کرسی کے سامنے حصار بنا کے کھڑے ہو گئے جس کے باعث پی ٹی آئی کے ارکان آگے نہ بڑھ پائے۔

سنی اتحاد کونسل کا ہر رکن عمران خان کی تصویر ساتھ لے کر دستخط کے لیے اسپیکر ڈائس تک گیا اور رول آف ممبر پر دستخط کے بعد عمران خان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

قومی اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف شدید احتجاج کیا جب کہ مخصوص نشستیں نہ دینے پر ایوان کو نامکمل بھی قرار دیا۔

نو منتخب قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی سے ہی نظر آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ماضی میں روایتی اتحادی اس بار حکومت کا حصہ نہیں بن رہے۔

اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمٰن ایوان میں اپوزیشن کے لیے مختص نشستوں پر جا بیٹھے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف 2013 کی اسمبلی میں موجود تھے اور اب لگ بھگ چھ برس بعد وہ ایوان کے رکن بنے ہیں۔ مگر نواز شریف کے چہرے پر خوشی کے تاثرات نظر نہیں آئے۔

نواز شریف کو ایوان میں آتے ہی ہیڈ فونز لگانے پڑے کیوں کہ ایوان میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی مسلسل نعرے بازی کے باعث شور ہو رہا تھا۔ نواز شریف کو کئی برس بعد ایوان میں آنے کے بعد پہلے دن ہی اپنے خلاف شدید نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدا سے شور اور ہنگامہ آرائی سے اجلاس ختم بھی اس وقت ہوا جب خواجہ آصف نے ایوان میں گھڑی لہرائی۔ اس پر سنی اتحاد کونسل کی طرف سے سخت ردِ عمل دیا گیا۔ اسی شور شرابے کے دوران اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس یکم مارچ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اور بعد میں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کا مؤقف تھا کہ یہ تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر انتخاب ہوگا جب کہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG