رسائی کے لنکس

مظفرآباد: کنٹرول لائن پر گولہ باری، سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس

  • روشن مغل

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، بھارتی افواج نے کنٹرول لائن عبور کرنے والے مبینہ عسکریت پسندوں پر بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں، پیر کے روز سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار بس سروس بھی معطل رہی

متنازعہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر بھارتی افواج کی مبینہ گولہ باری کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، بھارتی افواج نےمبینہ طور پر کنٹرول لائن عبور کرنے والے عسکریت پسندوں پر بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں، پیر کے روز سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار بس سروس بھی معطل کر دی گئی۔

منگل کے روز کنٹرول لائن پر بھارتی کشمیر کے علاقے میں گولہ باری سے پاکستانی کشمیر کے سرحدی قصبے، چکوٹھی اور گرد و نواح کے دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سکول بند کر دئیے گئے۔ اور بازاروں میں موجود دوکاندار اور گاہک خوف کے عالم میں حد بندی لائن کی طرف دیکھنے لگے۔تاہم، یہ واضع نہیں آیا فائرنگ کا تبادلہ مخالف افواج کے درمیان یا پاکستانی کشمیر کے علاقے میں ہو رہا ہے۔

چکوٹھی قصبے کے تاجر، نذیر حسین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بیاتا کہ ماضی کی طرح آج پھر فائرنگ شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی طرف سے ’سموک بم‘ اور ’مارٹر گولے‘ فائر کیے گئے ہیں۔

سکولوں سے گھروں کی طرف جاتے ہوئے بچوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ گولے گرنا شروع ہوگئے ہیں اس لئے سکول بند کر دیئے گئے۔ ایک طالب علم اسامہ صدیق نے بتایا کہ کنٹرول لائن پر گولے گرے ہیں اس لئے ہمیں چھٹی دیدی گئی یے۔

منگل کے روز ہو نے والی فائرنگ اور گولہ کی وجہ سے، ہفتہ وار بین لکشمیر تجارتی سرگرمیان بھی تاخیر کا شکار رہیں۔

متنازعہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والی تقریباً سات سو پچاس کلومیٹر لمبی حد بندی کے دونوں جانب سینکڑوں دیہات اور قصبے ہیں جو متحارب افواج کے درمیان گولہ باری کی زد میں آتے رہتے ہیں۔ تاہم، گزشتہ کئی ماہ سے مجموعی طور پر کنٹرول لائن پر نسبتاً امن ہے، جس کی وجہ ان علاقوں میں روزمرہ زندگی رواں دواں ہے۔

گذشتہ برس ستمبر کے مہینے میں بھارتی کشمیر کے علاقے اوڑی میں فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کے ایک مبینہ حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی لائن پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا تھا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سن دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا، جو اب تک قائم ہے۔ لیکن، اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔

خیال رہے کہ کشمیر کا علاقہ شروع سے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ چلا آ رہا ہے۔ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ اور پاکستان اسے اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG