رسائی کے لنکس

logo-print

کنٹرول لائن پار پاک فوج کے انتظامی ہیڈکوارٹر کو ہدف بنایا: بھارتی فوج


بارڈر سکیورٹی فورس (فائل)

سہیل انجم/روشن مغل

بھارت کی خبر رساں ایجنسیوں پی ٹی آئی، اے این آئی اور نئی دہلی کے متعدد اخباروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کے پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاک فوج کے انتظامی ہیڈکوارٹر کو ہدف بنایا ہے, جس میں کئی فوجی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔

سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے، ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ 23 اکتوبر کو پونچھ اور جھلاس میں پاکستانی فوج کے مارٹر حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔ فوج نے دہشت گردوں کے لانچنگ پیڈ کو بھی نشانہ بنایا اور ان کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے۔

اس طرح، بقول ان کے، بھارتی فوج نے پاکستان کو ایک سخت اشارہ دیا ہے۔ سرحدی دیہات کے باشندوں نے کہا ہے کہ انھوں نے دھواں اٹھتے دیکھا ہے۔

ادھر، مظفرآباد سے موصول ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور بھارتی افواج کے درمیان منگل کے روز وادی نیلم میں گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔

روشن مغل نے بتایا ہے کہ وادی نیلم کے مرکزی قصبے اٹھ مقام کے مکینوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ کئی گولے قصبے کے قریب بھی گرے، جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور دوکانداروں نے دکانیں بند کرکے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔

نیلم کے ایک رہائشی نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ گولہ باری کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا؛ اور یہ کہ گولہ باری کے باعث مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

نئی دہلی کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’پاکستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے باوجود بھارتی افواج نے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیا۔ اس نے ایل او سی کے نزدیک ہجیرہ، باندی گوپال پور، نکیال، سمانی اور خویرٹا جسیی سویلین آبادیوں کو ہدف بنانے سے گریز کیا‘‘۔

حالانکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، بھارتی فوج کی کارروائی میں پاکستانی کشمیر کا ایک شہری زخمی ہوا اور ایک مکان تباہ ہو گیا۔

پاکستان بلا اشتعال فائرنگ کے بھارت کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

نئی دہلی کے سیاسی تحزیہ کاروں نے اس سلسلے میں رائے زنی سے گریز کیا۔ البتہ، ایک تجزیہ کار آلوک موہن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبریں ذرائع کے حوالے سے آئی ہیں، کسی عہدے دار کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ تاہم، نیوز ایجنسی اے این آئی نے حملے کے بارے میں ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ آلوک موہن نے دونوں ملکوں سے کہا کہ وہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں۔

انھوں نے کہا کہ آج کشمیر میں بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں۔ بھارت سرجیکل اسٹرائک کر رہا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے۔ بہتر ہوگا کہ دونوں ملک سمجھداری سے کام لیں۔ بھارت کو بھی نرم انداز اپنانا چاہیے۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت رکھ کر اصل مسائل پر توجہ دیں۔

قبل ازیں، بھارتی بحریہ نے پاکستانی بحریہ سے کہا تھا کہ وہ 22 اکتوبر کو جموں کے سندربنی سیکٹر میں کنٹرول لائن کے نزدیک ہونے والی مڈبھیڑ میں ہلاک ہونے والے دو دراندازوں کی لاشیں لے جائے۔

بھارت نے 2016 میں بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے اور دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک سرے سے ہوئی ہی نہیں تھیں۔

مظفرآباد کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی کشمیر کے شمال میں واقع وادی نیلم سیاحت کے لیے مشہور ہے اور جنگ بندی لائن پر امن کی وجہ سے ہر سال گرمیوں میں لاکھوں سیاح وادی نیلم کی سیر کو آتے ہیں۔

پیر کے روز بھی جنگ بندی لائن کے پونچھ سیکڑ میں بھی ایک گھر پر گولہ باری سے پاکستانی کشمیر کا ایک شہری زخمی ہوا اور گولہ باری سے مکان کو بھی نقصان ہوا۔

پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان وادی نیلم میں 2003 تک گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا تھا، جس کی وجہ سے وادی کو ملانے والی واحد شاہراہ بند ہونے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG