رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں فرقہ وارانہ تناؤ، جموں میں کرفیو جاری


جموں

جموں ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے جہاں خود کش حملے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کے خلاف جمعے کو مکمل ہڑتال کی گئی تھی

سرینگر کے قریب واقع لیتہ پورہ علاقے میں جمعرات کو ہونے والے خودکُش حملے میں 49 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف بھارت میں شدید غم و غصہ ہے۔ اس واقعے کے خلاف کئی مقامات پر لوگوں نے مظاہرے کئے ہیں جن کے دوران قصور واروں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

تاہم، سرینگر پہنچنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ چند ایک مقامات پر جن میں ریاست اُترا کھنڈ کا دارالحکومت دہرہ دون بھی شامل ہے اس واقعے پر کشمیری طلبہ اور تاجروں کو بعض مقامی افراد کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

خود بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے جن میں وہاں تعینات وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں الزام عائد کیا ہے کہ ان کی رہائش گاہوں پر شہر میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود حملے ہوئے ہیں۔

جموں ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے جہاں خود کش حملے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کے خلاف جمعے کو مکمل ہڑتال کی گئی تھی۔ ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر تشدد بھڑک اٹھا اور بلوائیوں نے مقامی اور کشمیری مسلمانوں کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور دوسری املاک کو نقصان پہنچایا تھا جس کے بعد پورے جموں شہر میں تا حکمِ ثانی کرفیو نافذ کیا گیا۔ اور حساس علاقوں میں فوج بلائی گئی۔

لیکن اس کے باوجود، ہفتے کو جموں کے چند علاقوں میں جن میں جانی پور کا علاقہ بھی شامل ہے کشمیری مسلمانوں کے گھروں پر پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد سرمائی دارالحکومت میں ڈیوٹی دینے والے کشمیری ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو وہ ایک ساتھ وادی لوٹ جائیں گے۔

پولیس نے ان افواہوں کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے کہ جموں میں کشمیری مسلمانوں پر کئے گئے حملوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی افواہیں شر پسند عناصر پھیلا رہے ہیں۔ جمعے کو جموں بند کرنے کے لئے اپیل جموں چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری نے دی تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ پُر امن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے لئے اپیل کے باوجود جموں کے بعض علاقوں میں تشدد آمیز واقعات کیوں پیش آئے، چیمبر کے صدر راکیش گپتا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ"ہم نے ہڑتال کی اپیل سی آر پی ایف اور حملے میں مارے جانے والے اس کے سپاہیوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے دی تھی۔ لیکن شرارتی عناصر ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف جموں میں ہی ہیں۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ حالات بالکل قابو میں ہیں۔ جموں میں کرفیو نافذ ہے۔ جو افوائیں پھیلائی جاری ہیں اُن میں کوئی صداقت نہیں"۔

جموں میں جمعے اور ہفتے کو پیش آنے والے واقعات اور بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیری تاجروں اور طالبعلموں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں جن میں سرینگر اور اننت ناگ کے شہر بھی شامل ہیں، ہفتے کو مظاہرے کئے گئے ہیں جن کے دوران تشدد اور حفاظتی دستوں پر پتھراؤ کے واقعات پیش آئے۔

مقامی تاجروں نے اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے ہفتے کو سہ پہر تین بجے سے اپنی سرگرمیاں معطل کردیں اور پھر سڑکوں پر آکر مظاہرے کئے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، شیخ عاشق حسین نے کہا ہے کہ اگر کشمیریوں پر حملے بند نہیں ہوئے تو کشمیری جموں کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ"لوگ ہمیں فون کرکے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ صورتِ حال پریشان کُن ہے۔ حکومت اور انتظامیہ زمیں پر ناکام ہوگئی ہیں۔ ہم نے جموں میں اپنے ہم منصبوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کریں اور اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہم جموں کے ساتھ تمام تجارتی رشتوں کو منقطع کرنے پر مجبور ہونگے"۔

جموں اور بھارت کے مختلف مقامات پر کشمیری مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ریاست کی مجموعی صورتِ حال پر کیا اثر پڑے گا، اس استفسار پر بھارت کی مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے مقامی راہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ "یہ ملکی سطح پر بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ کشمیریوں اور باقی ماندہ ملک کے درمیان دوریاں پہلے ہی موجود ہیں۔ جموں اور ملک کے بعض دوسرے حصوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کشمیریوں کے ذہن و قلب پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اجنبیت بڑھے گی جو دونوں کے لئے گھاٹے کا سودا ہوگا"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG