رسائی کے لنکس

میک ماسٹر کو بھی تبدیل کر دیا جائے گا: رپورٹ


قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اطلاعات کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ بات امریکہ کے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہی ہے تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ انہیں قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے الگ کرنے میں جلدی نہیں کریں گے تاکہ فوج کے جنرل کے لیے ایسا اقدام خفت کا باعث نا بنے ۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق میک ماسٹر کو ان کے عہدے سے الگ کرنے کے معاملے کا تعلق ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے ردوبدل سے ہے جس کی وجہ سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس سے کئی دیگر (عہدیداروں) کو بھی رخصت ہونا پڑے گا۔

صدر نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہمیشہ تبدیلی ہو گی۔۔۔اور میرا خیال ہے کہ آپ تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں مختلف نقطہ نظر کو دیکھنا چاہتا ہوں۔"

​دوسری طرف جمعرات کی رات کو اپنے ٹوئٹر بیان میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے ان اطلاعات کے تردید کرتے ہوئے کہا کہ "ابھی ابھی میری امریکہ کے صدر اور جنرل ایچ آر میک ماسٹر سے بات ہوئی ہے اور اطلاعات کے برعکس ان کے درمیان اچھا ورکنگ ریلیشنشپ ہے اور این ایس سی (نیشنل سیکورٹی کونسل) میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ہے۔ "

سارہ ہکابی سینڈرز سے جمعرات کو قبل ازیں جب صدر ٹرمپ اور میک ماسٹر کے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "صدر اور جنرل میک ماسٹر روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ صیح چیزیں کریں۔ میرے خیال میں آپ آج روس کے خلاف عائد کی جانے والی تعزیرات کو دیکھ کر انتظامیہ کے نقطہ نظر کو جان سکیں گے۔"

​میک ماسٹر کو تبدیل کرنے کے بارے میں اطلاعات سے دو دن پہلے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کو اچانک برطرف کیا گیا تھا۔

اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو صدر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد میک ماسٹر اپنے عہدے سے الگ ہونے والے دوسرے قومی سلامتی کے مشیر ہوں گے۔

اس سے قبل مائیکل فلن کو 2017 میں قومی سلامتی کا مشیر مقرر ہونے کے چند ہفتوں کے بعد ہی اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کہ انہوں نے روسیوں سے اپنے رابطوں سے متعلق وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG