رسائی کے لنکس

logo-print

ری پبلکن پارٹی کا دوسرا مباحثہ جمعرات کو ہوگا


امیدواروں کا ہفتہ بھر ایک دوسرے کی تعریف کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد، ٹرمپ اور کروز نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر سیاسی حملے شروع کر دئے ہیں

امریکی صدارتی انتخابات 2016 کے لئے ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے حصول کی دوڑ کا سلسلہ شروع ہونے سے صرف 18 دن قبل 7 نمایاں امیدواروں کے درمیان دوسرا مباحثہ جمعرات کو ہوگا۔

رئیل اسٹیٹ کے ارب پتی تاجر، لیکن سیاسی طور پر ناآموز، ڈونلڈ ٹرمپ، قومی سروے کے مطابق، ریپبلکن ووٹرز کے درمیان اب بھی نمایاں ترین امیدوار ہیں۔ لیکن، ٹیکساس کے قدامت پسند سینیٹر ٹیڈ کروز مقبولیت میں ان کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔

بعض سروے کے مطابق، ریاست آئیوا میں کروز کو ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے، جہاں پارٹی کے اراکین یکم فروری کو نامزدگی کے انتخاب کے لئے اظہار رائے کریں گے، جس کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے تمام ریاستوں میں پورے مہینے جاری رہنے والے مقابلوں کا آغاز ہوجائے گا، جس کا اختتام جولائی میں پارٹی کنوینشن پر ہوگا جہاں نامزدگی کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

امیدواروں کا ہفتہ بھر ایک دوسرے کی تعریف کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد ٹرمپ اور کروز نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر سیاسی حملے شروع کردئے ہیں۔

ٹرمپ کا سوال ہے کہ کیا کروز صدارت کے اہل ہیں، کیونکہ ان کی ماں امریکی اور والد کیوبا کے ہیں اور وہ کنیڈا میں پیدا ہوئے۔ امریکی آئین کے مطابق، ملکی صدر پیدائشی طور پر امریکی ہونا چاہئے، جس کے عمومی معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ وہ امریکی سرزمین پر پیدا ہوا ہو۔ جبکہ، بعض دوسرے اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ کروز پر آئین کی اس شق کا کوئی اثر ہوگا۔

لیکن، ٹرمپ کی دلیل ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے اہلیت کو چیلنج کرنے کے لئے قانونی کارروائی کی تو سینٹر کروز نااہل ہوسکتے ہیں۔

کروز جو 2013ء میں صدر اوباما کے قومی ہیلتھ کیئر میں اصلاح کے پروگرام کو روکنے کے لئے 16 دنوں تک حکومت کو جزوی طور پر بند کرنے میں پیش پیش تھے، کہا ہے کہ ٹرمپ نیویارک کی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے معنی ہیں کہ وہ قدامت پسند نہیں ہیں۔

فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش سیاسی سروے میں ٹرمپ اور کروز سے کافی پیچھے ہیں، لیکن وہ ٹرمپ کو تنببہ کرنے والوں میں شامل ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک قدامت پسند پارٹی کے لئے ٹرمپ ایک قدامت پسند نہیں، جبکہ ہمیں ایک قدامت پسند منتخب کرنا ہے جو ہمارے کے لئے واشنگٹن میں تمام معاملات کو درست کرے۔ ہمیں قدامت پسند اصولوں کو نافذ کرنا ہے۔

دیگر ریپبلکن امیدوار ٹرمپ یا کروز کے متبادل بننے کی توقع میں ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے رہے ہیں، جنھوں نے پارٹی سے باہر کی شخصیت کے طور پر مہم چلائی اور کبھی واشنگٹن میں قومی سطح پر ریپبلکن پارٹی کی شخصیت کے طور پر سامنے نہیں آئے۔

فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو کروز کی طرح کیوبن امریکن ورثے کے مالک ہیں اور انھوں نے کچھ ریپبلکن حمایت بھی حاصل کرلی ہے۔ تاہم، ایمگریشن اصلاح کے حوالے سے ان کے بیان پر کٹر قدامت پسند خوش نہیں ہیں حالانکہ بعد میں وہ اس مؤقف سے ہٹ گئے تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب اسلام پسندوں سے متاثر ہوکر پیرس اور کیلی فورنیا میں دہشت گرد حملوں کے بعد امریکی دہشت گردی کے امکانات پر تشویش میں مبتلا ہیں، نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی ایک سابق وفاقی پراسیکوٹر کی حثیت سے اپنے تجربے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

سابق نیورو سرجن بین کارسن جن کے مواقع خارجہ پالیسی کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر ماند پڑگئے ہیں۔ اوہائیو کے گورنر جان کیسچ بھی جو ووٹ دینے والی کلیدی ریاست کے رہنما ہیں جمعرت کو ہونے والے مباحثے کے اسٹیج پر موجود ہوں گے۔

ادھر ڈیموکریٹ پارٹی کے چھٹے مباحثے کا اسٹیج اتوار کو سجے گا، سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ورمانٹ کے سنیٹر برنی سنڈرجو خود کو ایک آزاد جمہوری سوشلسٹ کہتے ہیں پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی سرفہرست امیدوار سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG