رسائی کے لنکس

logo-print

ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کا 2016 کے مجوزہ مصارف بل پر سمجھوتہ


ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں متوقع طور پر اس مصارف بل پر رائے شماری جمعرات کو ہو گی۔ ان دونوں ایوانوں میں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے۔

امریکی کانگرس کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ مذاکرات کاروں نے 2016 کے لیے ایک کھرب ایک ارب ڈالر کے مجوزہ حکومتی مصارف منصوبےکے لیے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے جس میں کاروباری اداروں اور افراد کے لیے مقبول ٹیکس چھوٹ کی مجوزہ توسیع بھی شامل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ریپبلکن ارکان نے اسپیکر پال ریان کے قیادت میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد منگل کو دیر گئے اس بہت بڑے مجوزہ مصارف بل کو سامنے لائے۔ اس مجوزہ بل میں امریکہ سے تیل کی برآمد پر 40 سال سے عائد پابندی کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے جس کا مطالبہ ریپبلکن نے کیا اور ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پید کرنے والوں کے لیے ٹیکس میں پانچ سال کی چھوٹ کی تجویز بھی شامل ہے جس کی مانگ ڈیموکریٹ کی طرف سے کی گئی ہے۔

اس مجوزہ بل میں ان دو طرح کے ٹیکسوں کو منجمد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے جس کا مقصد صدر اوباما کے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے قانون کے لیے وسائل مہیا کرنا ہے جن میں طبی آلات پر ایک موجودہ ٹیکس اور صحت کی انشورنس کی اعلیٰ قدر کے منصوبو ں پر ٹیکس ہے جس پر 2018 سے عمل درآمد شروع ہوگا۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں متوقع طور پر پر اس مصارف بل پر رائے شماری جمعرات کو ہو گی۔ ان دونوں ایوانوں میں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے

یہ سمجھوتہ وائٹ ہاؤس اور اس وقت کے اسپیکر جان بوہینر کے درمیان طے پانے والے اس سمجھوتے کے بعد سامنے آیا جس میں 2017 تک حکومتی مصارف کے لیے فنڈ فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ جس کے باعث 2016 کے بجٹ سال کے شروع ہونے سے پہلے ممکنہ حکومتی تعطل کاخطرہ ٹل گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG