رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے داخلے پر پابندی ختم


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقامات کے چند مناظر

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں عرصہ دراز سے نافذ غیر ملکی سیاحوں کے داخلے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے ۔

وفاقی حکومت کی طرف سے سیاحت کے فروغ کیلئے شروع کیے گئے نیو ویزہ رجیم کے تحت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کے داخلے پر عائد پابندی ہٹا دی گئی ہے ۔

حکومت پاکستان کی طرف سے غیر ملکی سیاحوں کی کشمیر میں داخلے پر پابندی ایسے وقت ہٹائی گئی ہے کہ جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت تقسیم ہند سے قبل اس علاقے میں آباد اقلیتوں کو انکے مذہبی مقامات تک رسائی دینے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے ترجمان راجہ محمد وسیم خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مذہبی اقلیتیں خارجی سیاحوں کے داخلے پر قدغن کے خاتمے کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔

تقسیم برصغیر سے قبل بڑی تعداد میں ہندو اور سکھ اس علاقے میں آباد تھے جو 1947 میں بھارت اور اسکے زیر انتظام کشمیر ہجرت کر گئے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زیادہ تر سیاحتی مقامات جنگ بندی لائن کے قریب واقع ہیں۔

2003 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ کشمیر میں جنگ بندی لائن پر فائر بندی کے معاہدے کے بعد ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کررہی ہے ۔

سیاحوں کو پاکستانی کشمیر کی سیر کے لیے سہولیات مہیا کرنے والی ایک نجی کمپنی کے عہدیدار فیصل شہزاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس پابندی پر خا تمے سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد سے علاقے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور غیر ملکی سیاح یہاں کی ثقافت سے آشنا ہونگے ۔

نیو ویزا رجیم کے تحت کنیڈا اور برطانیہ کا پاسپورٹ رکھنے والے سکھوں کو بھی پاکستانی کشمیر کی سیاحت کی اجازت ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG