رسائی کے لنکس

کراچی میں چین کے تعاون سے سرکلر ریلوے، تعبیر آسان نہیں


کے آر سی کے نئے نظام پرکام رواں سال کے آخر میں شروع کیا کئے جانے کی خبریں زوروں پر ہیں جس کے لئے’ چین پاکستان اکنامک کاریڈور‘ (سی پیک)کے تحت ستاون بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سی پیک چین کے ’ایک بیلٹ،ایک روڈ‘ منصوبے کا حصہ ہے جس میں ایشیا سے یورپ اور افریقہ تک تجارتی روٹس بنائے جائیں گے۔

کراچی کے شہریوں کے لئے 1999 کے بعد سے ’لوکل ٹرین‘ یا’ سرکلر ریلوے‘ ایک ’سہانا خواب‘ بنا ہوا ہے۔

اس خواب کو ’سہانا‘ بنانے میں پڑوسی ممالک کی فلموں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جب بھی کراچی والے یہ سنتے اور دیکھتے ہیں کہ ممبئی کی ’لوکل ‘اور دہلی کی ’میٹرو سروس‘ نے شہریوں کی زندگی کس قدر آسان بنادی ہے، وہ ’ کراچی سرکلر ریلوے‘ کے خواب کی تعبیر کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کرنے لگتے ہیں۔۔

مگر۔۔۔’ہنوز دلی دور است‘۔۔۔’منزل ابھی بہت دور ہے‘۔۔اور رکاوٹیں بہت۔۔!!

شہر میں 29 سالوں تک سرکلر ریلوے کا نظام چلا۔ اس کا روٹ 43 کلومیٹر طویل تھا جو 20 سال پہلے بند ہو گیا۔ وجہ تھی لوگوں کے پاس وقت کی کمی ۔۔۔ ٹرینوں کی تاخیر سے آمد اور صرف لگا بندھا روٹ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مسافر کم سے کم تر ہوتے گئے اور محکمہ ریلوے خسارے میں جانے لگا۔ خسارے کو تو خیرختم کون کرتا ، سرکلر ریلوے ہی بند کردیا گیا۔

اس سے لوکل ٹرینوں کے اسٹیشنز پہلے ویران ہوئے پھر ان پر قبضہ مافیا کے ڈیرے جما لئے ۔ ریلوے لائن پر کہیں سڑکیں بن گئی تو کہیں گھر اور کمرشل تعمیرات۔

حد تو یہ ہے کہ جو لوگ گھر نہیں بنا سکے انہوں نے جھونپڑیاں بنالیں۔ کچی آبادیوں نے ٹریک کو ڈھک دیا ۔ اس پر جانور باندھے جانے لگے، کہیں کھیل کے میدان سج گئے تو کہیں ہفتہ بازار لگنے لگے۔

بیس سال بعد آج دوبارہ کے سی آر یعنی کراچی سرکلر ریلوے کو شروع کئے جانے کی کوششیں ہونے لگی ہیں کیوں کہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہو گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پروجیکٹ کی بحالی کے لئے چین نے دوبلین ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ دوکروڑ (دوملین) آبادی والے شہرمیں آلودگی کم کی جاسکے اورٹریفک کے مسئلے پرقابو پایا جاسکے۔

سب سے بڑا مرحلہ قبضہ مافیا اور لوگوں سے ریلوے اراضی، ٹریک اور عمارتیں خالی کرانا ہے۔ رواں سال اپریل میں تجاوزات کے خاتمے کی کوششوں کا آغاز ہوا تو لوگوں اور پولیس میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ معاملہ اتنا بڑا کہ لوگوں نے سرکاری مشینری کو آگ لگا دی۔

برطانوی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے ’’ کے آرسی کے روٹ پر پانچ ہزار مکانات اور 7650 دیگر تجاوزات موجود ہیں۔‘‘

کے آر سی کے نئے نظام پر کام رواں سال کے آخر میں شروع کیا کئے جانے کی خبریں زوروں پر ہیں جس کے لئے’ چین پاکستان اکنامک کاریڈور‘ (سی پیک)کے تحت ستاون بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سی پیک چین کے ’ایک بیلٹ، ایک روڈ‘ منصوبے کا حصہ ہے جس میں ایشیا سے یورپ اور افریقہ تک تجارتی روٹس بنائے جائیں گے۔

تاہم منزل ابھی خاصی دور ہے۔ قبضہ مافیا سے اراضی خالی کرانا ہی ایک مشکل اور وقت طلب مسئلہ ہے۔ لیکن اگر ایک مرتبہ کراچی سرکلر ریلوے کامیاب ہو گیا تو شہر اور شہریوں دونوں کے لئے یہ نہایت فائدے مند ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG