رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی جارحیت سے نمٹنے کے تمام راستے کھلے ہیں: ٹلرسن


امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اقوام متحدہ کی سلامی کونسل میں

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئے جوہری صلاحیتیں امریکہ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور واشنگٹن ایسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے "تمام ضروری اقدامات " کرے گا۔

ٹلرسن نے کہا کہ "حقیقت میں ایسے خطرے کی صورت میں ردعمل نہ کرنا کسی بھی ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔"

وزیر خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ "ہم اس بارے میں واضح ہیں کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے تمام راستے موجود ہیں ۔۔لیکن ہم شمالی کوریا سے کوئی جنگ نہیں چاہتے۔"

ٹلرسن نے جاپان کی طرف سے شمالی کوریا کے جوہری پھیلاؤ سے متعلق بلائے جانے والے اجلاس میں یہ بات کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ "امریکہ شمالی کوریا کی جارحیت کےخلاف اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا لیکن ہماری توقعات یہی ہیں کہ سفارت کاری سے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ "

دوسری طرف ہفتے کو شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صدر ٹرمپ کے خلاف سخت الفا ظ کے ساتھ ان پر تنقید کرتے ہوئے ان کی انتظامیہ کے عہدیداروں کو تنبیہ کی گئی کہ " اگر وہ رسوائی اور تباہی سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں دانائی سے کام لینا ہوگا۔"

آرٹیکل میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ "کی حکومت نے فوجی جوابی کارروائی کی تو اس کے ردعمل میں اسے شمالی کوریا کی طرف سے سخت کارروائی کا سامنا ہو گا اور (یہ) گہری دلدل میں گر جائے گا۔"

صدر ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمر پوتن سے فون پر ہونے والی گفتگو کے ایک روز بعد واشنگٹن میں کہا کہ روس پیانگ یانگ کے خلاف اپنے دباؤ میں اضافہ کرے۔

ٹرمپ نے کہا کہ جمعرات کو پوتن کے ساتھ ہونے والی ان کی گفتگو کا بنیادی محور شمالی کوریا تھا اور یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو پیانگ یانگ کے حوالے سے ماسکو کی حمایت کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "چین ہماری مدد کر رہا ہے۔ روس مدد نہیں کر رہا ہے ۔ ہم روس کی مدد چاہتے ہیں۔۔جو کہ بہت اہم ہے۔"

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ شمالی کوریا کے ساتھ بغیر پیشگی شرط کے بات چیت کی حمایت کرتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا "ہم یہ دیکھیں گے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ہمیں بڑی حمایت حاصل ہے۔ بہت سار ملک ہم سے اتفاق کرتے ہیں , تقریبا ً سب ہی۔"

سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کا اعادہ کیا تاہم انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ پیانگ یانگ کو "مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کوشش کرنا ہو گی ۔"

"دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جوہری عدم پھیلاؤ حاصل نہیں کر لیا جاتا۔۔۔ اس دوران ہم بات چیت کے دروازے کھلے رکھیں گے۔"

اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹلرسن نے منگل کو دیئے گئے اپنے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ "بغیر پیشگی شرائط " کے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم پیشگی شرائط قبول نہیں کریں گے ہم بات چیت کے لیے تعزیرات کو نرم کرنے کی شرط کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم مذاکرات کے لیے انسانی بہبود کی امداد کو بحال کرنے کی شرط کو قبول نہیں کریں گے۔"

دوسری طرف اجلاس کی صدارت کرنے والےجاپان کے وزیر خارجہ تارو کونو نے کہا کہ " یہ حل پرامن ہی ہونا چاہیے تاہم یہ شمالی کوریا ہے جس نے تواتر کے ساتھ ایسے حل کو مسترد کیا ہے۔ "

کونو نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پیانگ یانگ پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے کہ وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ جاپان نے شمالی کوریا کے مزید 19 اداروں کے اثاثے منجمند کردیے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ میں چین کے نائب سفیر وو ہیتاؤ نے سلامتی کونسل کے کئی ارکان کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال کے کنٹرول سے باہر ہو جانے کا خطرہ موجود ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا ہے۔

تاہم وُو نے کہا کہ "امن کی امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بات چیت کا اب بھی امکان ہے اور طاقت کے استعمال کا راستہ قابل قبول نہیں ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG