رسائی کے لنکس

logo-print

تشدد کے مرتکب ’سی آئی اے‘ حکام کے خلاف مقدمے کا مطالبہ


واشنگٹن میں بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کرنا دانشمندی تھا جب امریکہ شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے لیے "انتہائی سخت" طریقے استعمال کرنے والے سی آئی اے کے حکام کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی بن ایمرسن کا کہنا ہے کہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ’سی آئی اے‘ کے اقدامات سے متعلق امریکی سینیٹ کی رپورٹ "جرائم کے احتساب کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔"

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینیتھ روتھ کہتے ہیں کہ جب تک حکام پر مقدمہ نہیں چلے گا "مستقبل کے صدور کے لیے تشدد ایک 'پالیسی آپشن' کے طور پر موجود رہے گا۔

امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا کہ خفیہ ادارے سی آئی اے نے دہشت گردی کے الزام میں تحویل میں لیے گئے افراد کے ساتھ غلط سلوک روا رکھا اور تفتیش کے طریقوں کے موثر ہونے کے بارے میں کانگریس اور امریکی عوام کو گمراہ کیا۔

ان طریقوں میں زیر حراست لوگوں کو چھوٹی کوٹھڑیوں میں بند رکھنا، سونے نہ دینا اور 'واٹر بورڈنگ' کا طریقہ استعمال کرنا جس سے کسی شخص کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ پانی میں ڈوب رہا ہے، شامل تھے۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ سینیٹر ڈائن فائن سٹائن نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس اصطلاح کے عام معنی کے طور پر" کہا جا سکتا ہے کہ سی آئی اے کے تحویل میں رہنے والوں کو اذیت دی گئی۔ انھوں نے سی آئی اے کے ان اقدامات کو امریکی اقدار کے لیے دھبہ قرار دیا۔

صدر براک اوباما نے ہسپانوی زبان کے ایک ٹی وی نیٹ ورک "یونی ویژن" کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ وحشیانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ انھوں نے انھیں سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا یہ دہرائی نہیں جانی چاہیئں۔

واشنگٹن میں بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کرنا دانشمندی تھا جب امریکہ شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہا ہے۔ اس گروہ نے امریکیوں کو یرغمال بنایا اور اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شدت پسند یرغمالیوں سے مزید برا برتاؤ کریں گے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹ جاری کرنے کا کوئی مناسب وقت نہیں ہوتا لیکن ان کے بقول جب ملک کوئی غلطی کرے تو ضروری ہے کہ اسے تسلیم کرے۔

XS
SM
MD
LG