رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں دو لاکھ سے زائد افراد کو زیر حراست رکھا گیا: رپورٹ


اتنی زیادہ تعداد میں حراست میں لیے گئے افراد کی وجہ سے سرکاری فورسز نے 2012ء سے سکولوں، اسٹیڈیم اور گھروں کو ایسے حراستی مراکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا جو جرمنی کے نازی دور کی یاد دلاتے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق صدر بشارالاسد کے خلاف چار سال پہلے شروع ہونے والی بغاوت کے بعد اب تک دو لاکھ 15 ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

تنظیم نے جرائم کی عالمی عدالت سے انسانیت کے خلاف ہونے والے مبینہ جرائم کے خلاف استغاثہ کی کارروائی کرنے پر زور دے رہی ہے۔

سیئرین نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس (ایس این ایچ آر) کی طرف سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کو کئی جیلوں اور زیر زمین حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے جہاں ان کو بھوکا رکھا جاتا ہے اور ان پر منظم انداز میں تشدد کیا جاتا ہے۔

اتنی زیادہ تعداد میں حراست میں لیے گئے افراد کی وجہ سے سرکاری فورسز نے 2012 سے اسکولوں، اسٹیڈیم اور گھروں کو ایسے حراستی مراکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا جو جرمنی کے نازی دور کی یاد دلاتے ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ ایسے 100 سے زائد قید خانے اور حراستی مراکز کام کر رہے ہیں۔

غیر سرکاری و غیر جانبدار تنظیم ایس این ایچ آر، موقع پر موجود سرگرم کارکنوں کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات پر انحصار کرتی ہے اور اس نے مارچ 2011ء میں شامی تنازع کے شروع ہونے کے بعد حراست میں لیے گئے 215,000 افراد میں سے 110,000 کے متعلق اپنی رپورٹ میں تفصیل بیان کی ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ان حراستی مراکز میں ہو رہی ہیں جو نام نہاد نیشنل ڈیفنس آرمی سے تعلق رکھنے والے مقامی ملیشیا کے زیر انتظام ہیں۔

اس سے پہلے اس سال ہیومن رائٹس واچ نے بھی حراست میں رکھے جانے والے چار افراد کے بیانات کا حوالہ دیا تھا جنہوں نے سیدانیا کے فوجی حراستی مرکز میں حراست کے دوران اموات اور ناقابل برداشت حالات سے متعلق بتایا تھا۔

ایس ایچ این آر کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے زائد عرصے میں حراست میں لیے گئے افراد کی اندازاً تعداد کو زیادہ بتایا گیا ہے جبکہ حقوق کی دوسری تنظمیوں نے تعداد 200,000 کے قریب بتائی ہے۔

اس رپورٹ کا زیادہ تر حصہ دیر شمیل کے خفیہ حراستی مرکز سے متعلق ہے جو رپورٹ کے مصنفین کے مطابق حکمران بعث پارٹی سے منسلک 1,500 افراد چلا رہے ہیں جن کا تعلق قریبی دیہات سے ہے۔ اس کیمپ کے سابق قیدی کے بیان سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر اس میں مخالفین اور ان کے خاندانوں کے افراد اور ہر ایسے شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس پر غداری کا شک ہو اور یہاں پر پیسے کے عوض قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔

ایک سابق قیدی جسے ڈیر شمیل کے حراستی مرکز میں تین ماہ تک قید رکھا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ تقریباً 2,500 افراد کیمپ میں قید ہیں جن میں 250بچے اور 400 خواتین بھی شامل ہیں۔ مقامی شہریوں نے ایس این ایچ آر کے تحقیق کاروں کو بتایا ہے کہ انہوں نے کیمپ سے باہر پھینکی گئی ایسی لاشوں کو دیکھا ہے جن پر تشدد کے نشانات تھے۔

ایس این ایچ آر نے اقوام متحدہ کی طرف سے ان قرار دادوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کی ہے جن میں شامی حکام پر ان کی طرف سے لوگوں کو حراست میں رکھنے اور ان پر من مانے طریقے سے تشدد کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

ایس این ایچ آر کی رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ "سلامتی کونسل، شام کی برسر اقتدار حکومت کی طرف سے مسلسل چار سال سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی ہلاکتوں پر اس کے خلاف کارروائی کرنے میں مکمل بے بس نظر آتی ہے"

ایس این ایچ آر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ آئی سی سی میں مقدمات درج کرنے میں مدد کرے اور اس نے سفارش کی ہے کہ اسپیشل انٹرنیشنل ٹربیونل قائم کیے جائیں جس طرح یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی کے دوران کیے گئے جرائم سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG