رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ میں انسانی حقوق کی ’بڑے پیمانے پر‘ پامالی کا الزام


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ موغادیشو میں قائم عارضی کیمپوں میں مقیم افراد کو وہاں سے زبردستی بے دخل کرنے کے عمل میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے

حقوقِ انسانی کی ایک بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے جنگ سے تباہ حال دارالحکومت کی تعمیر نو کے دوران عارضی کیمپوں میں مقیم ہزاروں افراد کی زبردستی بے دخلی ’’انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی‘‘ کا سبب بن رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعہ کو کہا کہ موغادیشو سے ان افراد کو زبردستی نکالے جانے کے عمل میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے، باوجود اس کے کہ حکومت ان افراد کو متبادل محفوظ جگہ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

تنظیم کے صومالیہ میں محقق گیما ڈیوئس نے کہا کہ یہ حکومت کی ’’ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور طبقوں کو تحفظ فراہم کرے۔‘‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دارالحکومت موغادیشو میں ساحل سمندر کے قریب قائم ان عارضی پناہ گاہوں میں تین لاکھ سے زائد افراد مقیم ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم نے صومالیہ کی حکومت سے کہا ہے کہ لوگوں کو بے دخل کرنے کا یہ عمل اس وقت تک روک دیا جائے جب تک کہ ان لوگوں کو متبادل جگہ فراہم نہیں کر دی جاتی۔
XS
SM
MD
LG