رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتِ حال خراب ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھٹی جماعت سے پہلے 59 فی صد پاکستانی لڑکیاں اور 49 فی صد پاکستانی لڑکے اسکول چھوڑ جاتے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں کی مدد کے لیے کام کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' (ایچ آر ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی راہ میں سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی اور غربت جیسے عوامل حائل ہیں جن کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لڑکیاں اور لڑکے ہر سال تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

'ہومین رائٹس واچ' نے منگل کو پاکستان میں لڑکیوں کے حصولِ علم کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

"میں اپنی بیٹی کو تعلیم دوں یا اسے کھانا دوں؟" کے عنوان سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی صورتِ حال خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی صورتِ حال میں 2015ء کے بعد سے کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 20 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی عمر والی بچیوں کی ایک تہائی تعداد تعلیم سے محروم ہے جب کہ 21 فیصد لڑکے اسکول نہیں جا رہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھٹی جماعت سے پہلے 59 فی صد پاکستانی لڑکیاں اور 49 فی صد پاکستانی لڑکے اسکول چھوڑ جاتے ہیں جن کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں کی مدد کے لیے کام کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔

رپورٹ میں ان عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان میں سیاسی عدم استحکام، سول سوسائٹی کو کام سے روکنا، عسکریت پسندوں کی کارروائیاں اور بڑھتا ہوا نسلی اور مذہبی تناؤ شامل ہے جس کی وجہ سے رپورٹ کے مطابق ریاست کو تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ملک میں صنفی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات بشمول جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل، جبری اور کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے یہ صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان بھر میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی شرح کم ہے لیکن ملک کے بعض علاقوں میں یہ صورتِ حال نسبتاً زیادہ خراب ہے۔

رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں 15-2014 میں 81 فی صد خواتین اور 52 فی صد مرد پرائمری تعلیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے میں 75 فی صد خواتین اور 40 فی صد مرد کبھی اسکول گئے ہی نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ملک کے تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے سبب پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ ان نجی اسکولوں کی وجہ سے اسکولوں میں جانے والے بچوں کی تعداد بڑھی ہے لیکن ایک بڑی تعداد میں غریب خاندان ان اسکولوں کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں نجی اسکول ایسے ہیں جو نگرانی کے نظام سے باہر ہیں۔ وہاں کے اساتذہ مناسب استعدادِ کار کے حامل نہیں اور ان کا نصاب بھی غیر معیاری ہے۔

'ایچ آر سی' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سرکاری سطح پر معیاری تعلیم کی سہولت کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور غریب طلبہ کے لیے تعلیم کا ذریعے صرف یہی مدارس ہیں جہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے اخراجات مقامی مسجد یا دیگر مذہبی ادارے برداشت کرتے ہیں۔

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2016ء میں چھ کروڑ سے زائد پاکستانی سطحِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فی صد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نجی اسکول اور مدارس پاکستان کے تعلیمی مسائل کو کم کرنے میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن بین الاقوامی اور مقامی قوانین کے تحت ملک میں تمام بچوں کو مناسب معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

دوسری طرف تعلیم کے حصول کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بھی ہے جس کی وجہ سے بعض خاندان اپنی لڑکیوں کو اسکول نہیں بھیجتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2013ء اور 2017ء کے دوران پاکستان میں سیکڑوں اسکول حملوں کا نشنانہ بنے اور ان میں سب سے مہلک دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والا حملہ تھا جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کی حکومت سے تعلیم کے شعبے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی سفارش کی ہے اور تجویز دی ہے کہ ان وسائل کو صنفی امتیاز ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے معیاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پاکستان میں 18-2017 کے دوران کی جانے والی ریسرچ پر مبنی ہے جس کے لیے 200 افراد کے انٹرویو کیے گئے تھے جن میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور اسکول انتظامیہ کے ذمہ داران شامل تھے۔

ہومن رائٹس کی اس رپورٹ پر تاحال حکومت کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن رواں سال اگست میں پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے اپنی پہلی نشری تقریر میں کروڑوں پاکستانی بچوں کی تعلیم سے محرومی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG