رسائی کے لنکس

logo-print

نیا پاکستان، نئے پاکستانی؟


کراچی میں جنم لینے والے شاہد شاہ کو پڑھنے کا شوق تھا۔ اس کے پاس بہت سی کتابیں تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن ایک مسئلے کا سامنا تھا۔ اس کا آبائی تعلق بنگال سے تھا اور اس کے پاس شناخت نہیں تھی۔ کالج اور یونیورسٹیاں شناختی دستاویز کے بغیر داخلہ نہیں دیتیں۔

شاہد کے پاس دو راستے تھے۔ پیٹ پالنے کے لیے جرم کا راستہ اختیار کرتا یا شناخت حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا۔ دوسرا راستہ مشکل اور صبر طلب تھا۔ لیکن کتابوں سے محبت کرنے والا کسی اور راستے پر نہیں جا سکتا۔

شاہد کے نانا حیدرآباد میں سرکاری ملازم تھے اور ان کے کاغذات اس کے پاس تھے۔ شاہد نے ان کاغذات کی بنیاد پر اپنی والدہ اور پھر اپنا شناختی کارڈ بنوایا اور تعلیم جاری رکھی۔ اب اس کے بہن بھائیوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

شاہد خوش قسمت ہے کہ اسے شناخت مل گئی اور وہ اپنے خواب پورے کر سکتا ہے۔ لیکن کراچی میں بنگالی بولنے والے لاکھوں افراد کے لیے واحد خواب شناختی کارڈ کا حصول ہے۔

ان لوگوں کو اس وقت امید کی کرن دکھائی دی جب وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی خاندانوں کے پاکستان میں جنم لینے والے بچوں کو شہریت دینے کا اعلان کیا۔ بنگالی بولنے والوں اور ان ہی کی طرح شہریت سے محروم لیکن کراچی میں مقیم افغانوں نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں اس فیصلے پر تشویش ہے۔

سندھ اسمبلی کی سابق رکن مہتاب اکبر راشدی نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اس فیصلے پر اس لیے تشویش پائی جاتی ہے کہ غیر ملکی سیدھے کراچی آتے ہیں کیونکہ یہاں روزگار کے زیادہ مواقع ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ سندھیوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے ہی صوبے میں اقلیت بن کے رہ جائیں گے۔ کوئی نیا فیصلہ کرنے سے پہلے تمام حلقوں کو اعتماد میں لینا اور شکوک و شبہات کا دور کرنا ضروری ہے۔

لیکن تارکین وطن کو شہریت دینے سے معیشتیں ترقی کرتی ہیں۔ امریکا اور یورپ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اس نکتے پر مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ امریکا اور یورپی ملکوں میں بھی تارکین وطن کے لیے شرائط بڑھ رہی ہیں اور اب بہت چھان پھٹک کر شہریت دی جاتی ہے۔ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہاں بہتر نظام ہے۔ ہمارے ہاں تو کوئی نظام نہیں۔ ایک دوسرے پر بھروسا بھی نہیں۔ فیصلہ سازوں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی چاہیے اور اس بارے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

اے این پی کے کئی رہنما افغانوں کو پاکستان کی شہریت دینے کے حق میں ہیں۔ لیکن اسی پارٹی کے سینیٹر شاہی سید کچھ محتاط ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جسے بھی شہریت دینی ہے، آئین اور قانون کے مطابق دیں۔ لیکن خیال رکھا جائے کہ کوئی دہشت گرد یا جرائم پیشہ شخص اس کا فائدہ نہ اٹھائے۔ اس کے علاوہ یہ پالیسی صرف کراچی کے بجائے پورے ملک کے لیے ہونی چاہیے اور اس کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے تارکین وطن کو شہریت دینے سے جڑے ایک اور معاملے کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی شہریت کا سب سے پہلا حق بنگلادیش میں محصور خاندانوں کا بنتا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ 16 دسمبر 1971 تک جو پاکستانی تھے، انھیں آپ شہریت نہ دیں اور بعد میں آجانے والے غیر ملکیوں کو پاکستانی مان لیں۔

پاکستان سے الگ ہونے کے بعد بنگلادیش میں کئی لاکھ اردو بولنے والے افراد برسوں تک شناخت سے محروم رہے۔ 2008 میں ڈھاکا ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ان افراد کو بنگلادیشی شہریت دی جائے۔ لیکن 1971 میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگ اب بھی شناخت سے محروم ہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ ریاست کو سب کے لیے یکساں پالیسی بنانا ہوگی۔ اگر صرف کراچی میں رہنے والے غیر ملکیوں کو شہریت دی جائے گی تو دوسرے علاقوں میں موجود تارکین وطن بھی یہاں آجائیں گے۔ انھوں نے ایم کیو ایم کا یہ موقف بھی دوہرایا کہ مردم شماری میں کراچی کی آدھی آبادی کو نہیں گنا گیا۔ تارکین وطن کو شہریت دینے سے شہر کے مسائل بڑھیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG