رسائی کے لنکس

logo-print

گنی اور سیرالیون میں ایبولا کی صورتحال مزید بگڑ رہی ہے


امریکی صدر نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں میں تیزی اور اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین ممالک (گنی، لائبیریا اور سیرالیون) کے لیے مزید امداد فراہم کرنے پر زور دیا۔

عالمی ادارہ صحت "ڈبلیو ایچ او" کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے متاثرہ مغربی افریقہ کے ملکوں میں صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔

ادارے کے مطابق یہاں ہلاکت خیز وائرس "بدستور موجود ہے اور پھیل" رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ کا کہنا ہے کہ سیرالیون میں گزشتہ دس روز میں ایبولا وائرس کے 425 کیسز رپورٹ ہوئے اور پڑوسی ملک گنی میں بھی اس وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ریکار کیا گیا ہے۔

ایبولا سے متاثرہ نائیجیریا اور سینیگال میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں اور اگر یہاں بغیر کوئی نیا کیس رپورٹ ہوئے 42 دن گزر گئے تو عالمی ادارہ صحت ان ملکوں کو ایبولا سے پاک ملک قرار دے دے گا۔

ادھر صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر تمام مناسب حفاظتی انتظامات کر لیے جاتے ہیں تو امریکہ میں ایبولا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ "انتہائی کم" ہے۔

ایبولا سے متعلق کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے تمام اسپتال جہاں ایبولا وائرس کا کوئی کیس تشخیص ہو وہاں فوری طور پر وفاقی ہنگامی طبی ٹیم کو تعینات کیا جائے، تاکہ تمام احتیاطی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

"اگر ہم ان اصولوں پر مناسب طریقے سے عمل کریں۔۔۔ ایبولا وائرس کے ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ بہت، بہت ہی کم ہے۔"

انھوں نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں میں تیزی اور اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین ممالک (گنی، لائبیریا اور سیرالیون) کے لیے مزید امداد فراہم کرنے پر زور دیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دنیا مغربی افریقہ میں ایبولا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے۔

15 رکنی کونسل نے ایبولا کو دنیا کی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے تمام ارکان اس بیماری سے نمٹنے کی کوششوں میں "ڈرامائی انداز میں اضافہ" کریں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایبولا وائرس سے اب تک آٹھ ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں سے ساڑھے چار ہزار سے زائد مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG