رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: 13 ہلاکتیں۔۔ زندگی کا ایک دن، موت کی ایک رات


کراچی میں مٹی کے تودے تلے دب کر مرنے والا ایک خاندان صرف ایک دن قبل ہی وہاں شفٹ ہوا تھا۔ تودہ تین جھونپڑیوں میں بے خبر سوئے ہوئے لوگوں پر اتنا اچانک گرا کہ کسی کو اپنی جگہ سے ہلنے کا بھی موقع نہیں ملا۔

اللہ بخش کراچی میں منگل کو علی الصبح ہونے والے سانحے کے حوالے سے خود کو سب سے بدقسمت قرار دے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس جیسا بدنصیب کوئی نہیں جس نے اپنی بھانجی، اس کے شوہر اور تین بچوں سمیت پانچ افراد کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائیں اور انہیں اپنے آخری سفر کے لئے روانہ کردیا۔

منگل کی شام گلستان جوہر کے بلاک ون میں جہاں گزشتہ رات اچانک مٹی کا تودہ گرنے سے سات بچوں سمیت 13 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اسی مقام پر کھڑے ہوئے اللہ بخش اور اس کے ایک نوجوان ساتھی محمد عامر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’وہ سامنے، کچھ فٹ کے فاصلے پر جو فوم کا پھٹا پرانا گدا اور خون میں لت پت تکیہ پڑا ہے اسی پر میری بھانجی کا شوہر اپنے تین بچوں کے ساتھ سو رہا تھا، جبکہ بھانجی کچھ فاصلے پر لیٹی نیند میں گم تھی کہ مٹی کا تودہ ان پر آگر اتنا اچانک کہ کسی کو اپنی جگہ سے ہلنے کا بھی موقع نہیں ملا اور پانچوں اسی کے نیچے دب کر مر گئے۔‘

اللہ بخش اپنے آپ کو قابو نہ رکھ سکا اور اس کی آنکھیں جھلک آئیں۔ اس دوران محمد عامر نے وی او اے کو بتایا ’ہم سب ایک ہی گاوٴں کے رہنے والے ہیں۔ ہمارا تعلق کٹھور، تحصیل خان پور ضلع رحیم یار خان پنجاب سے ہے۔ اللہ بخش کی بھانجی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک دن اور ایک رات پہلے ہی اس جگہ منتقل ہوئی تھی ورنہ اس سے قبل منور چورنگی کے قریب رہتی تھی۔ میں بھی وہیں رہتا ہوں اور اللہ بخش بھی۔ ہمیں واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد خبر ملی تو ہم بھاگے بھاگے یہاں پہنچے۔‘

ایک اور عینی شاہد شاہ رخ نے بتایا، ’میں سامنے والے شادی ہال میں کام کرتا ہوں۔ رات گئے اچانک زوردار دھماکا ہوا تو سب گھبرا گئے۔ باہر نکل کر دیکھا تو چاروں طر ف مٹی ہی مٹی، دھول ہی دھول تھی۔ چونکہ علاقے میں ایک مرتبہ پہلے بھی ایسا واقعہ ہوچکا ہے، لہذا فوراً سمجھ میں آگیا کہ معاملہ کیا ہے۔ لوگ مدد کے لئے آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ سب سے پہلے رینجرز کے اہلکار بڑی تعداد میں یہاں پہنچ گئے۔ انہی کے ساتھ ساتھ ایمبولینس اور دیگر ریسکیو ادارے پہنچے۔‘

ایک سوال کے جواب میں محمد عامر نے بتایا: ’یہ چھ سو گز کا پلاٹ ہے جس کا مالک مبینہ طور پر پولیس کا ایک اعلیٰ عہدیدار ہے جس نے کچھ ہی مہینوں پہلے اس پلاٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کی غرض سے لوگوں کو یہاں رہنے کی اجازت دی تھی۔یہ پلاٹ کچی پہاڑیوں کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے اوپر بھی بڑے بڑے اور عالیشان مکانات بنے ہوئے ہیں اور نیچے بھی۔ جس جگہ مٹی کا تودہ گرا اس کے عین نیچے چار پانچ جھونپڑیاں تھیں جن میں مختلف لوگ رہتے تھے۔ تودہ انہیں جھونپڑیوں پر گرا اور آناًفاناً سب کچھ ختم ہوگیا۔‘

عینی شاہدین ، ریسکیو ذرائع اور پلاٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے میڈیا کے نمائندوں کوبتایا کہ تمام لاشیں ملبے کے نیچے سے نکال کر انہیں پہلے اسپتال اور بعد میں غسل وغیرہ کراکے تابوت کی شکل میں مرنے والوں کے لواحقین کے ہمراہ رحیم یارخان روانہ کردیا ہے جہاں ان کی آخری رسومات اداکی جائیں گی۔

پولیس کے مطابق، پلاٹ پر کل 15 افراد موجود تھے جن میں سے صرف دو افراد ہی زندہ بچ سکے۔ ان میں ایک بزرگ اور ایک بچہ شامل ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ جھونپڑیوں میں باقی رہ جانے والا عام استعمال کا سامان اور کچھ نقد رقم برآمد کی ہے۔ ایک الماری سے انہیں 2100 روپے اور کچھ موٹر سائیکلیں اور پرانی واشنگ مشین، بوسیدہ حالت میں وال کلاک، ٹیپ ریکارڈر، ٹی وی، پنکھا، سلائی مشین اور اسی نوعیت کا کچھ اور الیکڑک کا سامان ملا ہے جنہیں ضروری کارروائی کرکے لواحقین کے سپرد کردیا جائے گا۔

پولیس کو شک ہے کہ مٹی کے باقی بچے ہوئے تودے بھی کسی وقت گر سکتے ہیں کیوں ان میں پہلے سے بڑی بڑی دراڑیں پڑی ہوئی ہیں اور ان کے نہ گرنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔

کچھ علاقہ مکینوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ کچی پہاڑی جہاں مٹی کے بڑے بڑے تودے ہیں انہیں مشینوں سے کاٹ کاٹ کر ’چائنا پلاٹ‘ بنائے گئے ہیں۔ ان پلاٹوں کا سرکاری ریکارڈ ہے یا نہیں اور انہیں خریدا و بیچا جاسکتا ہے یا نہیں، اس حوالے سے مکینوں کی متضاد آراء تھیں، لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ پہاڑی کے آگے کنکریٹ کی دیواریں یا دیگر حفاظتی انتظامات کئے بغیر مکانات کی تعمیر آئندہ بھی اس قسم کے افسوسناک واقعے کو ہونے سے روک نہیں سکتیں۔ جائے حادثہ سے کچھ دور فاصلے پر ہی پہاڑی کے اوپری حصے پر بڑے بڑے مکانات بنائے گئے ہیں جن کی حفاظت اس واقعے کے بعد سے مزید ’مشکوک‘ ہوگئی ہے۔ حکام کو اس حوالے سے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG