رسائی کے لنکس

موسم اور سٹرکیں روہنگیا پناہ گزینوں کی امداد میں رکاوٹ


روہنگیا اپنے ایک بیمار کو کاکس بازار کے پناہ گزین کمیپ کے طبی مرکز لے جا رہے ہیں۔ ستمبر 2017

تارکین وطن نے عالمی ادارے کے ایک عہدے دار جوئل مل مین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نئے پناہ گزین عارضی گنجان پناہ گاہوں میں رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شدید بارشیں اور آمد و رفت کی دوسرے مشکلات ان پناہ گزینوں تک امدادی سامان  پہنچانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شدید موسم اور سڑکوں کی خراب حالت کے باعث بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے اور گنجان آباد علاقے میں مقیم ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تارکین وطن سے متعلق عالمی تنظیم کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 8 لاکھ سے زیادہ ررہنگیا پناہ گزین کاکس بازار میں موجود ہیں ۔ جب کہ گذشتہ دو مہینوں کے دوران 6 لاکھ سے زیادہ روہنگیا میانمار سے اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ چکے ہیں۔

تارکین وطن نے عالمی ادارے کے ایک عہدے دار جوئل مل مین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نئے پناہ گزین عارضی گنجان پناہ گاہوں میں رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شدید بارشیں اور آمد و رفت کی دوسرے مشکلات ان پناہ گزینوں تک امدادی سامان پہنچانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں جنہیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس چیز کو یقینی بنانے کے لیے کہ پناہ گزینوں تک امدادی سامان اور درکار خدمات جلد از جلد پہنچ سکیں مزید سٹرکیں اور بنیادی انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر ان پناہ گزینوں کو 7 لاکھ 41 ہزار لٹر پانی فراہم کیا گیا ہے، جن کے پاس اس جگہ جہاں وہ رہ رہے تھے، پانی تک رسائی بہت مشکل تھی اور وہاں رہنے والے بوڑھوں اور بچوں تک پینے کا پانی دشوار گذار پہاڑی پگڈنڈیوں سے گذرنے کے بعد پہنچایا گیا۔

مل مین نے بتایا کہ بنگلہ دیش پہنچنے والے پناہ گزینوں کے پاس یا تو سرے سے کچھ موجود ہی نہیں ہے، یا ا ن کے پاس بہت تھوڑا سرمایہ ہے جس کی وجہ سے وہ خود کی موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے عارضی ٹھکانے بھی نہیں بنا سکتے ۔

انہوں نے بتایا کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ادویات ہیں، کیونکہ بہت سے پناہ گزینوں کو بنگلہ دیش پہنچے کے لیے طویل فاصلے پیدل طے کرنے پڑے ہیں۔ اس دوران انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا بھی سامنا رہا ہے۔ اور اب وہ ایک چھوٹی سی جگہ پر رہ رہے ہیں جو 8 لاکھ افراد کی ضرورت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔

مل مین نے بتایا کہ انہوں نے 53 ہزار مریضوں کے لیے ہنگامی طبی مرکز قائم کر دیا ہے جس میں روہنگیا کے لیے زچہ بچہ سینٹر بھی موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG