رسائی کے لنکس

روہنگیا بحران، بیرونی مداخلت مسئلے کا حل نہیں: چینی عہدیدار


فائل

چین کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ بیرونی مداخلت سے بحران حل نہیں ہوتا اور چین استحکام برقرار رکھنے لیے میانمار کی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

چینی عہدیدار کی طرف سے یہ بیان ہفتہ کو ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میانمار کی رخائین ریاست میں تشدد جاری ہے۔

رخائین میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد میانمار فوج کی جوابی کارروائیوں کے بعد پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا فرار ہو کر بنگلادیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے میانمار کی حکمت عملی کو روہنگیا برداری کی 'نسلی صفائی' قرار دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بدھ کو ان ظالمانہ کارروائیوں کا ذمہ دار میانمار کی فوج کو قرار دیا۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ گوا یسہو نے چین میں کیمونسٹ پارٹی کی کانگرس کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین رخائین میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور وہ امن و استحکام کے لیے میانمار کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور میانمار کی دیرینہ دوستی ہے اور چین یہ سمجھتا ہے کہ میانمار اپنے طور پر اس مسئلے سے نمٹ سکتا ہے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ روہنگیا بحران سے متعلق چین کی پالیسی مغربی ملکوں سے مختلف کیوں ہے تو گوا نے کہا کہ چین کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نا کرنے کے اصول پر کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حال میں آپ نے ایک ملک کے دوسرے ملک میں مداخلت کے نتائج دیکھے ہوں گے جب ایک ملک نے دوسرے ملک میں مداخلت کی۔ ہم ایسا نہیں کرتے۔"

تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کس مداخلت کے نتائج خراب نکلے۔

گوا نے کہا کہ چین میانمار میں عدم استحکام نہیں چاہتا کیونکہ لامحالہ وہ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ چین اور میانمار کے درمیان طویل مشترکہ سرحد ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ "ہم تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔"

چین کی کمیونسٹ پارٹی میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے میں پیش پیش ہے جنہوں نے چینی حکومت کی بجائے کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر 2015ء میں چین کا دورہ کیا تھا۔

دوسری طرف کیمونسٹ جماعت کے بین الاقوامی امور کے شعبہ کے سربراہ سانگ ٹاؤ نے سوچی سے ملاقات کے لیے رواں سال اگست میں میانمار کا دورہ کیا تھا۔

رواں سال اگست کے بعد سے روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد میانمار سے فرار ہونے پر مجبور ہوئی جب باغیوں کے حملوں کے ردعمل میں میانمار کی فوج نے سخت کارروائی کی اور فرار ہونے والے بعض افراد نے سیکورٹی فورسز پر آتش زنی، قتل اور جنسی زیادتی کے الزمات عائد کیے۔

یورپی یونین اور امریکہ میانمار کی فوجی قیادت پر مخصوص تعزیرات عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم انہیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ ایسی کارروائی معیشت کے کے لیے سود مند نہیں ہے اور اس وجہ سے سوچی اور فوج کے درمیان پہلے سے تناؤ کا شکار تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG