رسائی کے لنکس

میانمار سے بنگلہ دیش کا کشتی کا سفر، خاصی رقم کا سودا


کاکسز بازار

بنگلہ دیش سے پھیرا مارنے والی کشتیاں معاوضے کے طور پر 100سے زائد ڈالر مانگ رہی ہیں۔ جن لوگوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے وہ کئی دِنوں تک مدد کے منتظر، نیک دل افراد کی اعانت یا رعایت برتے جانے کی امید پر دریا کے کنارے پریشان حال اور محصور رہتے ہیں

’ڈھاکہ ٹربیون ‘سے تعلق رکھنے والے صحافی، عادل سخاوت نے جمعرات کے روز دریائے نیف کے ذریعے بنگلہ دیش سے میانمار کا 40 منٹ کا سفر کیا۔ اُنھوں نے دیکھا کہ بیشمار کشتیاں مسافروں کو لے کر دوسری سمت رواں دواں ہیں۔

اِن بڑی کشتیوں میں روہنگیا مسلمان سوار تھے، جو میانمار کی شمالی ریاست، رخائن میں باغیوں کے خلاف جاری سخت کارروائی کے دوران بھاگ کر جان بچا رہے ہیں۔ ہر کشتی میں 10 سے 15 افراد سوار تھے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میانمار جاتے ہوئے میں نے سیکنڑوں کشتیاں دیکھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کا تانتا بندھا ہوا ہے، یکے بعد دیگرے۔ یہ کشتیاں دریائے نیف پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہو رہی تھیں‘‘۔

عادل کی کوشش یہ تھی کہ وہ میانمار سے آنے والوں اور ’ارکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے)‘ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کر سکیں، جن کا راہِ فرار کے گرد قبضہ ہے۔

عادل ایک لڑاکا سے گفتگو کرنے میں کامیاب ہوئے، اور اُن کے سفر سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ انخلا کے دوران روہنگیا افراد کا کافی مالی نقصان ہوا۔

بنگلہ دیش سے پھرا لگا کر واپس آنے والی کشتیاں معاوضے میں 100سے زائد ڈالر مانگ رہی ہیں۔ جن لوگوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے وہ کئی دِنوں تک مدد کے منتظر، نیک دل افراد کی اعانت یا رعایت برتے جانے کی امید پر دریا کے کنارے پریشان حال اور محصور رہتے ہیں۔

عادل نے بتایا کہ ’’ایسا ہے کہ بہت سارے روہنگیا افراد کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ بنگلہ دیش کا سفر کرسکیں۔ اس لیے، عام طور پر وہ کسی نیک دل کی مدد کے منتظر رہتے ہیں‘‘۔

اُنھیں دنیا کا سب سے بڑا بے وطن اور بے یار و مدد گار گروہ قرار دیا جاتا ہے۔ روہنگیا مسلمان عشروں سے بودھ اکثریت والے میانمار میں جاری مظالم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خلیج بینگال سے پھیرا کبھی سستا اور خطرے سے خالی نہیں رہا، جس دوران انسانی اسمگلنگ، تاوان کی ادائگی اور خطرناک موسمی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں سے دریائے نیف اور سمندری راستے باقی جنوب مشرقی ایشیا کی جانب کھلتے ہیں۔ پہلے ہی، بنگلہ دیش کے حکام نے ڈوبنے والی کشتیوں سے درجنوں لاشیں برآمد کی ہیں۔

لیکن، خطرات یکساں ہونے کے باوجود، لوگ سفر کے متمنی ہی نہیں مجبور ہیں، جس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اندازوں کے مطابق، جب 25 اگست کو ’ارکان روہنگیا سالویشن آرمی‘ نے پولیس چوکیوں پر دھاوا بولا ہے، 300000سے زائد روہنگیا میانمار سے بھاگ نکلے ہیں۔
مئانگ ڈو کے ایک باسی روہنگیا شخص، جو رخائن ریاست کے چند شہروں میں سے ایک ہے جو سرحد کے قریب ہیں، اس ہفتے بتایا کہ شہر کے دو تہائی سے زائد لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں۔

میانمار کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی کھوج لگاتے ہوئے، 370سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ اس کی سلامتی افواج کے درجن بھر اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق سے وابستہ افراد اور بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ روہنگیا شہری آبادی کی ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، جو ہزاروں میں ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ نسل کشی کی تشریح کے عین مطابق ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG