رسائی کے لنکس

'میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، نسل کشی کے مترادف ہے'


زید رعد الحسینی نے مینمار کی حکومت سے ظالمانہ فوجی آپریشن فوری طور پر روکنے اور ایسے پر تشدد واقعات کا ارتکاب کرنے والے عناصر کے خلاف احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اعلیٰ ترین عہدیدار زید رعد الحسینی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسلی کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔

اُنہوں نے یہ بیان جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل میں خطاب کے دوران ایسے وقت میں دیا ہے جب مینمار کے جنوب مغربی علاقے ریخائن میں فوجی کارروائی کے دوران بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمان پناہ گذینوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

بنگلہ دیش پہنچنے والے بیشتر پناہ گذیں بیمار یا زخمی ہیں۔ امدادی ایجنسیاں گزشتہ دو ہفتے سے ان پناہ گذینوں کو امداد پہنچا رہی ہیں تاہم اب اُنہیں دستیاب وسائل میں کمی کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے اہلکار زید کا کہنا ہے کہ اُنہیں متعدد رپورٹیں اور سٹلائیٹ تصاویر موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مینمار کی فوج اور مقامی ملیشیا روہنگیا کے گاؤں نذر آتش کر رہے ہیں اور عدالت سے ماورا قتل کے بھی بہت سے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں پناہ حاصل کرنے کی خاطر وہاں سے فرار ہوتے ہوئے بہت سے روہنگیا افراد کو گولی مارنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

زید رعد الحسینی نے مینمار کی حکومت سے ظالمانہ فوجی آپریشن فوری طور پر روکنے اور ایسے پر تشدد واقعات کا ارتکاب کرنے والے عناصر کے خلاف احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنہوں نے روہنگیا برادری کے خلاف وسیع پیمانے پر کئے جانے والے امتیازی سلوک کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنہوں نے دہرایا کہ ایسے اقدامات کسی برادری کے نسلی خاتمے کی کوششوں کی واضح مثال ہیں۔

یہ فوجی آپریشن 25 اگست کو اراکان روہنگیا سالویشن آرمی ARSA کی جانب سے پولیس کی چوکیوں اور ایک فوجی اڈے پر حملوں کے بعد شروع کیا گیا۔ مینمار کی حکومت نے ARSA کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے ۔

مینمار کی حکومت نے اتوار کے روز ARSA کی جانب سے فائر بندی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ ARSA نے شمالی ریخائن میں بے دخل ہوجانے والے بھوک و افلاس کا شکار روہنگیا مسلمانوں کو امداد پہنچانے میں سہولت کی خاطر یک طرفہ طور پر فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ لیکن مینمار کی حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور وہاں سے فرار اختیار کرنے والے روہنگیا افراد نے مینمار کی فوج اور بدھ لڑاکا گروپوں کی طرف سے لوٹ مار کرنے اور روہنگیا کو ریخائن سے نکانے کے اقدامات کا الزام لگایا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG