رسائی کے لنکس

روہنگیا کے مسئلے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کیلئے برطانیہ اور سویڈن نے درخواست دی ہے۔ یہ درخواست اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے اعلیٰ ترین اہل کار زید رعد الحسین کے بیان کے بعد دی گئی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ مغربی مینمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد فوجی کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک خصوصی ہنگامی اجلاس کل بدھ کے روز منعقد ہو رہا ہے جس میں مینمار میں روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف مسلسل جاری پر تشدد کارروائیوں کے پس منظر میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ مینمار میں ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 400,000 کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان فرار اختیار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کیلئے برطانیہ اور سویڈن نے درخواست دی ہے۔ یہ درخواست اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے اعلیٰ ترین اہل کار زید رعد الحسین کے بیان کے بعد دی گئی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ مغربی مینمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد فوجی کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔ زید نے جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل سے خطاب کے دوران بتایا کہ اُنہیں مینار میں فوج اور مقامی ملیشیا کی طرف ماورائے عدالت قتل اور ریخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں کو نذر آتش کرنے کے واقعات کے بارے میں بہت سی رپورٹیں اور سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ زید نے مزید بتایا کہ مینمار کی فوج نے مشترکہ سرحد کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔

پناہ گذینوں کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ 25 اگست سے روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک 370,000 روہنگیا مسلمان فرار اختیار کر کے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ 25 اگست کو روہنگیا مسلمانوں کے ایک گروپ نے پولیس کی درجنوں چوکیوں اور ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا جس کا مقصد بقول اُس گروپ کے اس نسلی اقلیت کو تشدد سے بچانا تھا۔ بعد میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور روہنگیا کے لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نےکاکسس بازار میں قائم روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے مینمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کر کے اُنہیں واپس قبول کرے۔

مینمار کی مقبول راہنما آؤنگ سن سو چی کو اس سلسلے میں دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم نوبل انعام یافتہ مینمار کی راہنما کا کہنا ہے کہ روہنگیا افراد کے حوالے سے دنیا میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے اس بارے میں بہت سی رپورٹوں کو جعلی اور جھوٹا قرار دیا ہے جس کا مقصد، بقول اُن کے، دہشت گردوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ آؤنگ سن سو چی روہنگیا کے ہتھیار بند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہیں۔

تاہم اُن کی طرح امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے متعدد افراد نے سو چی کو روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف پر تشدد فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں بدھ راہنما دلائی لاما، جنوبی افریقہ کے آرک بشپ ڈیسمونڈ ٹوٹو اور پاکستان کی ملالہ یوسف زئی شامل ہیں۔

مینمار کے کلیدی تجارتی حلیف چین نے مینمار کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوآنگ نے بیجنگ میں رپورٹروں کو بتایا کہ چینی حکومت مینمار کی جانب سے ریخائن میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

بدھ اکثریت کے ملک مینمار میں روہنگیا مسلمان متعدد نسلی اقلیتوں میں سے ایک ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تاریخی طور پر بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے مینمار میں آباد ہوئے تھے۔تاہم اُنہیں شہریت کے حق سے محروم کر دیا ہے باوجود اس بات کے کہ بیشتر روہنگیا افراد کئی نسلوں سے مینمار میں آباد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG