رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں نوجوان ووٹرز کا کردار کتنا اہم ہو گا؟


(فائل فوٹو)

امریکہ کی نئی نسل نے گزشتہ صدی کے آغاز سے اب تک بہت سے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ ان اندرونی اور بیرونی واقعات میں نائن الیون کی دہشت گردی، امریکہ کی کئی جنگوں میں شمولیت، کرونا بحران کے مہلک اثرات، دو بڑے اقتصادی بحران، جماعتی بنیادوں پر سیاسی رسہ کشی اور جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز کے مسائل کا پھر سے قومی سطح پر ابھرنا شامل ہیں۔

جہاں ان واقعات نے اس نسل کی تعلیم اور شخصیت سازی پر اثرات مرتب کیے ہیں وہیں انہیں سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی ترغیب بھی دی ہے۔

امریکہ میں رواں سال تین نومبر کو شیڈول صدارتی انتخابات پر سب کی نظریں ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کے معروضی سیاسی حالات کے پیشِ نظر ماہرین نوجوان ووٹرز کے رُجحان کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

امریکہ میں نئی نسل سے مراد آبادی کا وہ حصہ ہیں جو 1980 کے بعد پیدا ہوئے۔ 1981 اور 1995 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو 'ملینیل' (MILLENNIAL) کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو 1995 کے بعد پیدا ہوئے اُنہیں زی نسل (GENERATION Z) کہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی ترقی میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان امریکی اس بات کا بھی شعور رکھتے ہیں کہ عالمگیریت، ان کے اِرد گرد کا ماحول اور حکومتی پالیسیاں ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گی۔

اس کے علاوہ نئی نسل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر دسترس رکھتے ہوئے فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

امریکی انتخابات اور نوجوان ووٹر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:47 0:00

انتخابات میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی

امریکی قانون کے مطابق 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام امریکی شہریوں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔

تاریخی طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان امریکی سیاسی سرگرمیوں میں تو شریک ہوتے ہیں لیکن ان کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کی شرح آبادی کے دوسرے افراد سے کہیں کم ہے۔

لیکن 2018 کے درمیانی مدت کے انتخابات میں انہوں نے پہلے کے مقابلے میں بھرپور شرکت کی۔ تحقیقی ادارے 'پیو ریسرچ' کے مطابق اس سال 2018 کے مقابلے میں نوجوان نسل یعنی 'ملینیل' کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

اس تحقیق کے مطابق اپنی زندگی کے پہلے انتخابات میں شرکت کرتے ہوئے زی جنریشن کے 30 فی صد ووٹرز نے 2018 کے مڈٹرم انتخابات میں ووٹ ڈالے۔

تحقیق اور اطلاعات کے ادارے 'سرکل' سے منسلک ماہر ایبی کیاسا کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو 2020 کا انتخاب بہت دلچسب ہو گا کیوں کہ اس میں نوجوان امریکی بڑھ چڑھ کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

امریکی انتخابات میں سیاہ فام ووٹروں کی اہمیت
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:56 0:00

صدارتی انتخابات اور امریکی ووٹرز

ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں 18 سے 29 سال کے درمیان چار کروڑ ووٹرز ہیں۔

ان میں ڈیڑھ کروڑ ووٹرز ایسے ہیں جو گزشتہ انتخابات کے بعد 18 سال کی عمر کو پہنچے۔ یعنی یہ ووٹرز ان انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے اہل ہیں۔

ملینیل اور زی جنریشن کے کل ووٹ امریکہ کے مجموعی ووٹرز کا 10 فی صد ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک خاصی بڑی تعداد ہے جو انتخابات کے رجحان کو بدل سکتی ہے۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ نئی نسل کے تمام ووٹرز ایک طرح کی سیاسی سوچ رکھتے ہیں۔

'ینگ انونسبل' نامی تحقیقی ادارے کے مطابق 2016 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں 2020 میں سفید فام ووٹرز کی تعداد ایک فی صد کم ہو جائے گی۔ اس کے مقابلے میں افریقی امریکی، ہسپانوی اور ایشین ووٹرز کی تعداد ایک، ایک فی صد بڑھ جائے گی۔

نئی نسل کی ترجیحات کیا ہیں؟

کرونا وائرس نے ان مسائل کو پہلے سے کہیں نمایاں کر دیا ہے جنہیں نوجوان امریکی اپنے مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں۔ ان میں تعلیمی قرضوں کی ادائیگی، صحت کی سہولیات، امیگریشن، ماحولیاتی اور اقتصادی صورتِ حال اہم ترین مسائل ہیں۔

ان مسائل میں کرونا بحران کے باعث ملازمتوں کا ختم ہونا، صحت کی سہولیات کے اخراجات پورے کرنا اور ان حالات میں ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنا تقریباً تمام امریکی نوجوانوں کے مشترکہ مسائل ہیں۔

امریکہ میں نوجوان جو قرض تعلیم کے حصول کے لیے حکومت سے لیتے ہیں وہ ملازمت ملنے کے بعد اُنہیں ادا کرنا ہوتے ہیں۔ یوں ان نوجوانوں پر موجودہ صورتِ حال میں یہ دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔

افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے معاملے پر امریکہ میں نوجوان نسل سراپا احتجاج رہی۔ لہذٰا رواں سال کے صدارتی انتخابات میں نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ملک گیر مظاہروں میں شرکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی نئی نسل اس سال کے انتخابات میں بھرپور دلچسپی لے رہی ہے۔

کرونا بحران اور پولیس کی طرف سے نسلی تشدد کے خلاف مظاہروں سے قبل نئی نسل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی ایک مشترکہ مسئلہ تھا اور اس سال ووٹ کا حق استعمال کرتے وقت یہ مسئلہ بھی امریکی طلبہ اور نوجوان نسل کے ذہن میں ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG