رسائی کے لنکس

logo-print

تنقید کے باوجود جوہری معاہدے پر ’سب عمل کریں گے‘: ایرانی صدر


امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ پر نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں روحانی نے کہا کہ ایران میں متعلقہ اداروں کی طرف سے منظوری کے بعد ’’ہر کوئی اس (معاہدے) پر عمل کرے گا‘‘۔

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے باوجود اس کے​ کہ کچھ سخت گیر افراد ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی مذمت کر رہے ہیں، ایران میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس کی حمایت کرتی ہے۔

اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' پر نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں روحانی نے کہا کہ ایران میں متعلقہ اداروں کی طرف سے منظوری کے بعد ’’ہر کوئی اس (معاہدے) پر عمل کرے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہمارے لوگوں کی بڑی تعداد اس معاہدے کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہے۔ روحانی نے مزید کہا کہ ’’عام طور پر پارلیمان اور اعلٰی قومی سلامتی کونسل جیسے ادارے عوامی رائے عامہ سے لاتعلق نہیں ہوتے اور وہ وہی سمت اختیار کرتے ہیں"۔

روحانی نے ایران امریکہ تعلقات کے تناظر میں اس معاہدے کے ممکنہ وسیع اثرات کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی کمی جلد ختم نہیں ہو گی تاہم ان کا ماننا تھا کہ یہ مذاکرات ان دونوں کے درمیان مخاصمت کم کرنے کی جانب پہلا قدم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’’ایسے کئی شعبے ہیں جن میں مشترکہ اہداف اور مشترکہ مفادات موجود ہو سکتے ہیں۔‘‘

’’تاہم اس جوہری معاہدے میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریق اس پر عمل کرتے ہوئے کیا طرز عمل اخیتار کرتے ہیں۔ اس معاہدے پر اچھے طریقے سے عمل درآمد سے ایک نئی فضا قائم ہو گی۔‘‘

چھ عالمی طاقتوں بشمول امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ، چین اور جرمنی کے ایران کے ساتھ جولائی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا پابند ہے جس کے عوض اس پر عائد اقتصادی تعزیرات کو ختم کر دیا جائے جن سے ایرانی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے سربراہ یوکیا امانو سے ملاقات کی جو ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایران کی جوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی اور وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ملاقات کی۔

آئی اے ای اے کی بیان کے مطابق امانو نے ایرانی قیادت اور ایرانی قانون سازوں سے ہونے والی ملاقاتوں میں جوہری معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق امور پر بات چیت کی۔

XS
SM
MD
LG