رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی بحری جہاز کے قریب روسی طیاروں کی 'جارحانہ' پروازیں


امریکی عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ان طیاروں پر کوئی ہتھیار دکھائی نہیں تھا اور بحری جہاز پر موجود عملے نے ان جہازوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کیا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

روس نے کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے رواں ہفتے بالٹک سمندر میں امریکی جنگی بحری جہاز کے قریب پرواز کرتے وقت تمام بین الاقوامی قواعد کو ملحوظ رکھا۔

جمعرات کو روسی وزارت کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایس یو-24 طیارے تجرباتی پروازوں پر تھے۔

امریکہ کی طرف سے ان پروازوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ روسی طیاروں نے امریکی جہاز "ڈونلڈ کک" کو محض دیکھا اور "تمام حفاظتی اقدام کو مدنظر رکھتے ہوئے" پلٹ آئے۔

قبل ازیں امریکی دفاعی حکام نے بتایا تھا کہ دو روز کے دوران متعدد روسی فوجی طیاروں نے بالٹک سمندر میں ایک امریکی بحری جہاز کے قریب پروازیں کی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے بقول "ایک طویل عرصے میں ایسی جارحانہ پروازیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔" ان کے مطابق پہلی مرتبہ 11 اپریل کو دو روسی لڑاکا طیاروں نے یو ایس ایس ڈونلڈ کک کے انتہائی قریب سے پروازیں کیں جو کہ اس قدر قریب تھیں کہ ان سے پانی میں لہریں پیدا ہوئیں۔

اس سے اگلے روز جنگی طیارے گیارہ مرتبہ اسی بحری جہاز کے قریب سے گزرے۔ یہ دونوں واقعات بین الاقوامی پانیوں میں پیش آئے۔

عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ان طیاروں پر کوئی ہتھیار دکھائی نہیں دے رہا تھا اور بحری جہاز پر موجود عملے نے ان جہازوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کیا لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

جب یہ واقعات رونما ہوئے تو اس وقت امریکی بحری جہاز بالٹک میں لتھوینیا اور پولینڈ کے درمیان محو سفر تھا۔

امریکی عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ کک کے کمانڈنگ افسر نے ان پروازوں کو غیر محفوظ تصور کیا اور ان کے بقول اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بدھ کو وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس واقعے کو "عسکری پیشہ وارانہ اصولوں کے منافی‘‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس کو گزشتہ سال سے بین الاقوامی پانیوں میں امریکی جہازوں کے قریب روسی طیاروں کی متواتر پروازوں کے واقعات پر تشویش ہے۔

XS
SM
MD
LG