رسائی کے لنکس

روس نے شام سے متعلق قرارداد پھر ویٹو کر دی


اقوام متحدہ میں روسی سفیر سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران (فائل)

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ قرارداد پھر سے ویٹو کر دی ہے جس میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے کی تحقیقات کے لیے دی گئی مدت میں اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔

روس نے ایک دن قبل بھی ایسی ہی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

جاپان کی طرف سے پیش گئی قرارداد میں اس تحقیقاتی عمل میں 30 دن کی توسیع کرنے کی تجویز شامل تھی جس میں اس بات کا تعین کیا جانا تھا شام میں ہونے والے کیمیائی حملوں میں کون ملوث ہے۔

جمعرات کو امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی اسی طرح کی قرارداد کو روس نے ویٹو کر دیا تھا جس میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی گئی تھی۔

دوسری طرف جمعرات کو ہی روس کی طرف سے ایک قرارد اد کے مسود ے کی منظور ی کے لیے بھی درکار ووٹ دستیاب نا ہو سکے جس میں بین الاقوامی تحقیقاتی طریقہ کار میں ترمیم کی تجویز دی گئی تھی۔ اس قرار داد کو صرف چار ملکوں کی حمایت حاصل ہو سکی۔

اس بین الاقوامی تحقیقاتی عمل میں توسیع کی کوئی بھی قرارداد منظور نا ہونے کی وجہ سے مشترکہ تحقیقاتی میکانزم کی مدت جمعرات کی نصف شب کو ختم ہو گئی۔

جمعے کو روس کی طرف سے کیا جانے والا ویٹو روس کے طرف سے 11 واں ویٹو تھا جو شام سے متعلق قرارداد پر کیا گیا۔

سلامتی کونسل میں جمعے کو ہونے والی رائے شماری کے بعد امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کونسل کو بتایا کہ "روس کو مشترکہ تحقیقاتی طریقہ کار کو بچانے کے لیے کونسل کے باقی ارکان کے ساتھ مل کر مشترکہ بنیاد ڈھونڈنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ روس کسی بھی طریقہ کار کی حمایت نہیں کرے گا جو اس کی اتحادی شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی نشاندہی کرے۔ یہ صاف شرم کی بات ہے۔ "

ہیلی نے "شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا نشانے بننے والے خاندانوں اور شامی بچوں اور خواتین اور مردوں سے جو مستقبل میں ایسے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں " سے دلی معذرت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ یاد رکھیں کہ امریکہ باقی کونسل کے ساتھ مل کر آپ کے بچھڑ جانے والے پیاروں کے لیے انصاف اور آپ کے خاندانوں کے تحفظ کی کوششیں ترک نہیں کرے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ روس اس کونسل کی راہ میں رکاوٹ تو کھڑی کر سکتا ہے لیکن وہ انصاف کے راستے کو روک نہیں سکتا ۔"

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویسلے نیبنیزیا نے کہا کہ اس انکوائری کی مدت میں اسی صورت توسیع کی جاسکتی ہے اگر "اس کے کام کے بنیادی نقائص کو " دور کر لیا جاتا ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی میکانزم نے دو سال قبل اس وقت اپنا کام شروع کیا تھا جب شام میں عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے متعدد حملے ہوئے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک یا انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تمام حملوں کی ذمہ دار شامی حزب مخالف ہے ۔

شام کے اتحادی روس نے اس معاملے کی تحقیقات کی حمایت کی تھی تاہم اس کی رپورٹ پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ اس میں شامی حکومت کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG