رسائی کے لنکس

logo-print

حلب میں شامی فوج نے کارروائیاں 'معطل' کر دیں


روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ "اس بارے میں اتفاق ہو گیا ہے کہ ہمارے فوجی ماہرین اور سفارت کار جنیوا میں ہفتہ کو ملیں گے۔۔"

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے مشرقی حلب میں تمام فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں، یہ اقدام تباہ حال شہر کی صورت حال پر امریکی اور روسی فوجی ماہرین کے درمیان ہونے والی ملاقات سے پہلے عمل میں آیا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ وہ حلب میں لڑائی روکنے کے لیے روس کے ساتھ ممکنہ سمجھوتہ طے پانے کے بارے میں " پرامید" ہیں۔

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں لاوروف سے ملاقات کے بعد کیری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ اب بھی "ردعمل" کا انتظار کر رہے ہیں تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتائے بغیر کہا کہ "ہم یہاں کسی چیز پر کام کر رہے ہیں۔"

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ "اس بارے میں اتفاق ہو گیا ہے کہ ہمارے فوجی ماہرین اور سفارت کار جنیوا میں ہفتہ کو ملیں گے اور وہ اس کام کو ختم کریں گے جو اس دستاویز پر ہو رہا تھا جس میں حلب شہر کے مسئلہ کے حتمی حال کے لیے طریقہ کار طے کیا جائے گا جس کے تحت تمام عسکریت پسند یہاں سے چلے جائیں اور وہ عام شہری بھی جو جانا چاہییں۔"

دوسری طرف نیویارک میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹافن دی مستیورا نے روسی اعلان کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ لڑائی رک گئی ہے یا عام شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔ ہفتے کو ہونے والی بات چیت میں اقوام متحدہ کے عہدیدار بھی شامل ہوں گے ۔

دی مستیورا نے کہا کہ روسی اعلان سلامتی کونسل کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے مزید کہا کہ روسی سفارت کار نے سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کو یہ نہیں بتایا کہ حلب کے گرد کتنے عرصے تک لڑائی معطل رہے گی ۔

حلب سے لوگوں کے انخلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے دی مستیورا نے کہا کہ "جو تعداد بتائی جا رہی ہے اور جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ تقریباً آٹھ ہزار عام شہریوں کی ہے۔"

دی مستیورا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مشرق حلب سے واپس جانے والے عسکریت پسندوں میں وہ گروپ بھی شامل ہے جسے پہلے جبهة النصرة کے نام سے جانا جاتا تھا اور ان کے علاوہ دیگر مسلح گروہ بھی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس بارے میں بات چیت کے سوا اور مناسب اور محفوظ حل کیا ہو سکتا ہے یہ حقیقت ایک اہم ممکنہ پیش رفت ہے۔"

دوسری طرف شام سے جمعرات کو صدر بشار الاسد کا یہ بیان سامنے آیا کہ ان کے فوجی اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ روس اور اقوام متحدہ کی بات چیت کا ذکر نہیں کیا لیکن یہ کہا کہ باغی جب تک شہر میں موجود ہیں جنگ بندی کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG