رسائی کے لنکس

logo-print

ایران اور روس کی جانب سے شامی صدر کی حمایت کا اعادہ


روسی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومتیں شام کے بحران میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گی۔

ایران اور روس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار صرف شام کے عوام اور وہاں کے سیاسی گروہوں کو حاصل ہے۔

پیر کو ماسکو میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومتیں شام کے بحران میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گی۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگر روس کے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ تمام فریقین کو اس بات پر متفق ہوجانا چاہیے کہ شام میں عبوری مدت کے خاتمے پر صدر کو اپنا عہدہ چھوڑ نا ہوگا تو روس کے لیے یہ خیال قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ ان کی حکومت اور اس کے مخالفین کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اتفاقِ رائے سے ہی ہوسکتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے بھی اپنے روسی ہم منصب کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتوں کا کردار شام تنازع کے فریقین کے درمیان اس طرح کی بات چیت میں معاونت فراہم کرنے تک محدود ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ ایران اور روس عالمی برادری میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے چند آخری اتحادیوں میں سے ہیں جو چار سال سے جاری بحران میں شامی حکومت کو سفارتی مدد اور سہارا فراہم کرتے آئے ہیں۔

تاہم روس نے حالیہ مہینوں کے دوران خود کو تنازع کے ثالث کے طور پر پیش کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں جن میں شامی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشاورتی اجلاسوں کا انعقاد اور حکومت کے ساتھ ان کے رابطوں میں مدد دینا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کی نمائندہ جماعتیں، شام کے بیشترپڑوسی ممالک، خلیجی عرب ریاستیں اور مغربی ممالک تمام کے تمام شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے صدر بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

اپنی ملاقات میں ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے اور اس کے بعد کی صورتِ حال میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

XS
SM
MD
LG