رسائی کے لنکس

logo-print

کرائمیا مبصرین کے دائرہ اختیار میں نہیں ہو گا: روس


وزارت خارجہ نے او ایس سی ای کے مبصرین پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں "بے قابو قوم پرست راہزنوں" اور "انتہائی سخت گیر رجحان" کے خاتمے کے لیے کام کریں۔

روس نے ہفتہ کو اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی مبصر مشن یوکرین میں کامیاب ہو گا لیکن اس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مبصرین کے نگرانی کا دائرہ کرائمیا تک نہیں ہو گا۔

ماسکو کے مطابق کرائمیا اب "روس کا حصہ" ہے۔

وزار خارجہ کا کہنا تھا کہ اسے امید ہے کہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای) کے معائنہ کار اس صورتحال کو حل کرنے میں مدد کر سکیں جو روس کے بقول "یوکرین کا داخلی بحران" ہے۔

وزارت نے او ایس سی ای کے مبصرین پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں "بے قابو قوم پرست راہزنوں" اور "انتہائی سخت گیر رجحان" کے خاتمے کے لیے کام کریں۔

روس اور او ایس سی ای نے جمعہ کو یوکرین میں سویلین مبصرین تعینات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اتفاق رائے سے کام کرنے والی اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے لگ بھگ 500 مبصرین یوکرین میں انسانی حقوق سمیت سلامتی کی صورتحال کے بارے میں معلومات جمع کریں گے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ او ایس سی ای کے پاس پورے یوکرین بمشول کرائمیا میں کام کرنے کا اختیار ہے۔

روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے جمعہ کو کرائمیا کو روس میں شامل کرنے کے ایک قانون پر دستخط کیے۔ اس قانون کی پارلیمان سے منظوری ہو چکی ہے اور گزشتہ اتوار کو کرائمیا میں ہونے والے ریفرنڈم میں لوگوں کی اکثریت نے روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں سے کوئی بھی کرائمیا کو روس کے حصے کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے صدر براک اوباما کے دورہ یورپ کا "محور" یوکرین کی صورتحال ہو گا۔
XS
SM
MD
LG