رسائی کے لنکس

logo-print

روس، چین اور پاکستان کا سہ فریقی اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا


نفیس ذکریا نے کہا کہ اس اجلاس کی میزبانی روس کرے گا اور اس میں شرکت کے لیے جانے والے پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کریں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ علاقائی اُمور بشمول افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان، روس اور چین کا سہ فریقی اجلاس 27 دسمبر کو ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس اجلاس کی میزبانی روس کرے گا اور اس میں شرکت کے لیے جانے والے پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کریں گے۔

ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن و سلامتی پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں تعاون کے عزم پر قائم ہے اور اُن کے بقول ’’متحارب گروپ کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے ماضی میں بھی بہت مثبت کردار ادا کیا ہے اور آئندہ جب بھی ایسے گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہم سے رابطہ کیا جائے گا، پاکستان اس میں معاونت کرے گا۔‘‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ افغان سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کی طرف سے کیے گئے کامیاب آپریشن کے سبب بڑی تعداد میں شدت پسند سرحد پار منتقل ہو گئے ہیں۔

پاکستان پر ایسے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ اب بھی اس ملک میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے سینیئر کمانڈر روپوش ہیں، تاہم پاکستان کی طرف سے ایسے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ رواں سال افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے سینیئر کمانڈروں کے علاوہ القاعدہ، طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیم کے راہنما مارے گئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان شدت پسند تنظیموں کی قیادت کہاں ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل بدھ کو افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں اب کسی دہشت گرد تنظیم کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر حکومت کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد کی نگرانی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمدروفت کو روکا جا سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ 2020 تک صرف چھ ایسے منظم راستے ہوں جن کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت ہو۔

پاکستان کی طرف سے حالیہ برسوں میں افغانستان سے ملحقہ سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں لیکن یہ معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کا بھی سبب بنا ہے۔

دونوں ملکوں کے عوام خاص طور پر سرحدی علاقوں میں بسنے والے روزانہ بڑی تعداد میں ایک سے دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے اُن کے معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG