رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کے جواب میں چین اور روس کا مشترکہ ردِ عمل


چینی اور روسی وزرائے خارجہ مارج 22 کی اس تصویر میں ایک ملاقات کے دوران

یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر چین اور روس پر پابندیاں عائد کئے جانے کے ردِ عمل میں، دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز چین کے جنوبی شہر نانِنگ میں ایک ملاقات میں اپنے اپنے ملک کے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی روابط کا اعادہ کیا ہے، جبکہ منگل کو اپنے بیانات میں انہوں نے پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو 'یکطرفہ' قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری ان اقدامات کو تسلیم نہیں کرے گی۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹو نی بلنکن نے امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے چین کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک مشترکہ ردِ عمل، بین الاقوامی انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں کو ایک واضح پیغام دیتا ہے اور ہم اس حوالے سے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ مزید اقدامات بھی اٹھائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی پابندیاں اس کے اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہیں۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ ہمارے شراکت داروں نےسنکیانگ اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق پامال کرنے اور دیگر ظالمانہ کاروائیاں کرنے والوں کے خلاف بھی اقدامات کئے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز چین کے دو عہدیداروں کے خلاف پابندیاں عائد کر نے کا اعلان کیا ہے، جن میں صوبہ سنکیانگ میں پارٹی کے سابق نائب سیکرٹری وینگ جنزہینگ اور سنکیانگ کے پبلک سیکیورٹی بیورو کے ڈائیریکٹر چین مِن گُو او شامل ہیں۔

منگل کے روز ہی آسٹریلیا کی وزیر خارجہ، مریساپیئن اور نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نانیا ماہوتا نے بھی اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں چین کے مغربی علاقے میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش ہے۔

ادھر چین کے شہر نانِنگ میں چین کے وزیرِ خارجہ وینگ لی اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیویروف نے اپنے اپنے سیاسی نظاموں پر غیر ملکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی اور کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سمیت متعدد معاملات پر عالمی ترقی کے لیے مزید کام کرتے رہیں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، ملاقات کے بعد، ایک مشترکہ بیان میں دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی ملک کو اپنی طرزِ جمہوریت کو کسی دوسرے ملک پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئیے۔

منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں، چین اور روس کے وزرائے خارجہ نے اپنی بیان بازی کو جاری رکھا۔ چین کے وزیر خارجہ نے یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کی جانب سے چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کئے جانے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان یک طرفہ اقدامات کو عالمی برادری تسلیم نہیں کرے گی۔ چین کے عہدیداروں پر یہ پابندیاں صوبہ سنجیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے۔ یاد رہے کہ روس اور چین دونوں کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اور تینوں سیاسی اپوزیشن کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں اور طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔

پیر کے روز یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد، چین نے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، دس یورپی باشندوں اور چار اداروں پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب چین کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے تھے اور بد نیتی سے جھوٹ اور غلط معلومات پھیلا رہے تھے۔ نشانہ بننے والے یورپی باشندوں پر، چین، ہانگ کانگ اور مکاؤ میں داخلے پر پابندی کے ساتھ ساتھ ان کی چین کے مالی اداروں کے ساتھ لین دین کو بھی روک دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چین اور روس سرد جنگ کے دور میں کمیونسٹ دنیا کی قیادت کے لئے ایک دوسرے کے حریف تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں امریکہ کی قیادت میں چلنے والے نظام کے خلاف دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG