رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کی شکست کے لیے شام میں سیاسی معاہدہ ضروری ہے: اوباما


امریکی صدر نے کہا کہ یہ بات ناقابل تصور ہے کہ صدر اسد کے اقتدار میں ہوتے ہوئے شام میں جاری خانہ جنگی رک جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد ’’اب قانونی جواز حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام میں سیاسی اتفاق پیدا کیے بغیر شدت پسند گروپ داعش کو شکست دینے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں اور ان کے خیال میں ایسے کسی معاہدے کی صورت میں صدر بشارالاسد کو اقتدار میں نہیں رہنا چاہیے۔

"یہ بات ناقابل تصور ہے کہ اپ اس خانہ جنگی کو روک سکتے ہیں جب شام میں عوام کی اکثریت انھیں (صدر بشارالاسد کو) ایک بے رحم اور قاتل آمر سمجھتی ہو۔ وہ (صدر اسد) قانونی جواز حاصل نہیں کر سکتے اور ایسی صورت میں جب وہ اقتدار میں ہوں بھلے ہی بیرونی طاقتیں جو بھی کر لیں وہاں (شام میں) آبادی کا ایک بڑا حصہ لڑائی میں مصروف ہے۔"

امریکی صدر نے یہ بات فلپائن میں ایشیا پیسیفک اقتصادی کانفرنس کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈیو سے ملاقات کے بعد کہی۔

بین الاقوامی برادری گزشتہ چار برسوں سے زائد عرصے سے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتی آرہی ہے۔ اس لڑائی میں اب تک ڈھائی لوگ ہلاک جب کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکا ہے۔

شام کے بحران کے حل کے لیے ہونے والے اجلاسوں کا مرکزی نقطہ ملک میں سیاسی تبدیلی ہی رہا ہے لیکن موجودہ صدر بشار الاسد کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق بین الاقوامی برادری میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکہ اور اس کے دیگر یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونا چاہیے جب کہ روس اور ایران اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

صدر اوباما نے استفسار کیا کہ " کیا واقعی وہ (روس، ایران) یہ سمجھتے ہیں کہ اسد کو ساتھ رکھ کر اور شام میں حزب مخالف کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر کے جیت سکتے ہیں، یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شام کی ریاست کو بچائیں اور بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ایسی حقیقی حکومت تشکیل دینے کے لیے کام کریں جو جائز ہو۔"

قومی سلامتی کے لیے صدر اوباما کے نائب مشیر بین روڈز نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر اپنے بیرون ملک دورے کو شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ملاقات میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان کا ملک عراق اور شام میں داعش کے خلاف عالمی مہم کا مضبوط رکن رہے گا مگر انہوں نے اس اتحاد سے کینیڈا کے جنگی طیارے واپس بلانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا داعش کے خلاف کوششوں میں اپنے حصے سے زیادہ کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے حال ہی میں عراق میں مزید فوجی تربیت کار بھیجنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG